جمعرات‬‮ ، 16 اپریل‬‮ 2026 

شاہد خاقان عباسی نے شہباز شریف کی مفاہمتی سیاست کو ماننے سے انکار کر دیا

datetime 29  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے واضح کیا ہے کہ اگر مشاورت ہوگی تو پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) کے پلیٹ فارم سے ہوگی،مفاہمت اس سے نہیں ہوتی جو الیکشن چوری کرے اور آئین توڑے،ہر ادارے کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ شہبازشریف سے اختلاف کروں گا،

نوازشریف کے پاوَں پکڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر دلائل ہوں تو نوازشریف کو بڑے بڑے فیصلے بدلتے دیکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہبازشریف پرانے سیاستدان ہیں۔ آئین کو توڑنا قبول نہیں کرسکتے اس بیانیے میں کوئی اختلاف نہیں۔ چاہتے ہیں کہ اداروں کی عزت رہے اور وہ آئین کے مطابق اپنی حدود میں رہیں۔ چاہتے ہیں کہ ملک کا نظام آئین کے مطابق چلے۔ ایک انٹرویومیں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مفاہمت اس سے نہیں ہوتی جو الیکشن چوری کرے اور آئین توڑے، مفاہمت کبھی یکطرفہ بھی نہیں ہوتی،ہر ادارے کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ شہبازشریف سے اختلاف کروں گا، نوازشریف کے پاوَں پکڑنے کی ضرورت نہیں ہے،اگر دلائل ہوں تو نوازشریف کو بڑے بڑے فیصلے بدلتے دیکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہبازشریف پرانے سیاستدان ہیں،آئین کو توڑنا قبول نہیں کرسکتے اس بیانیے میں کوئی اختلاف نہیں،چاہتے ہیں کہ اداروں کی عزت رہے اور وہ آئین کے مطابق اپنی حدود میں رہیں، چاہتے ہیں کہ ملک کا نظام آئین کے مطابق چلے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان کے عوام امید کرتے ہیں کہ کوئی ان کی بات بھی کریگا، ہمارے ملک میں الیکشن چوری ہوتے ہیں، جس ملک کے الیکشن پر ڈاکا پڑے وہاں الیکشن ریفارمز کیا کریں گے۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ 1985 سے لے کر آج تک ہر الیکشن لڑا ہے، ٹروتھ کمیشن میں حقائق عوام کیسامنے رکھ دیئے جاتے ہیں،موجودہ حکومت کا ہر لمحہ پاکستان پر بھاری ہے،یہ ملک آئین کے مطابق نہیں چل رہا ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حمزہ شہبازشریف کا پنجاب میں وزیراعلیٰ بننے کا سب سے بڑا حامی ہوں، حکومت گرانا کوئی مشکل کام نہیں ہے،حکومت کے خلاف اپنی تحریک چلاتے رہیں گے، اگلے سربراہی اجلاس تک جلسے کرتے رہیں گے۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پی ڈی ایم اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی۔پیپلزپارٹی اور اے این پی کا ایشو ہمارے لیے کچھ نہیں،اگر پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کا اعتماد بحال کرے تو جگہ بن سکتی ہے،پی ڈی ایم کسی ایک جماعت کے سہارے نہیں چل رہی۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں بجٹ اور افغانستان کی صورتحال پر غور ہوا،میں وہ بات کرتا ہوں جو پی ڈی ایم کہتی ہے،پی ڈی ایم میں اختلاف رائے پہلے دن سے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ اتفاق رائے ہوا تھا کہ یوسف رضا گیلانی سینیٹ الیکشن لڑیں گے، پیپلزپارٹی اور اے این پی نے 5 لوگ حکومت کے لے کر اپوزیشن لیڈر بنایا، پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم کا اعتماد توڑا۔ ہم نے پیپلز پارٹی سے وضاحت طلب کی۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور اے این پی پی ڈی ایم سے ختم ہوگئی ہیں، ہمارا بیانیہ ہے کہ ملک آئین کے مطابق چلے۔اگر کسی نے بات نہیں کرنی ہے اور واپس نہیں آنا تو پھر خدا حافظ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…