پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

ملک کے 4 بڑے سرکاری پاور ہاؤسز بند کر دیئے گئے حکومت کے ریکارڈ میں پاور ہاؤسز فعال قرار

datetime 29  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)وزارت پانی وبجلی کے فیصلوں کے باعث ملک کے چار بڑے سرکاری پاور ہاؤسز بند کر دیئے گئے جن میں ایسے پاور ہاؤسز بھی شامل ہیں جن کی استعداد بڑھانے کے لیے ملین ڈالرز کی ایڈ دی گئی۔نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان میں مختلف سیاسی ادوار

میں بلین ڈالرز کے قرضوں سے بجلی پیدا کرنے کے کئی منصوبے بنائے گئے جن میں جامشورو، لاکھڑا، کوٹری، مظفر گڑھ، گڈو پاور ہاؤسز شامل ہیں جو 4 ہزار سے زائد میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے تاہم وفاقی وزارت پانی وبجلی نے پاور ہاؤسز کو فنی خرابی یا انہیں ناکارہ قرار دے کر بند کردیا،رپورٹ کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت کے ریکارڈ میں پاور ہاؤسز کو فعال قرار دیا گیا۔ایک جانب تو پاور ہاؤسز کو بند کیا جارہا ہے تو دوسری جانب بند کیے گئے جامشورو پاور ہاؤس کے اندر ہی کئی بلین ڈالر کی لاگت سے کوئلے کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے منصوبہ پر بھی کام جاری ہے۔جامشورو تھرمل پاور ہاؤس کے سی ای او نے ان کیمرہ بات کرنے سے انکار کردیا تاہم ایک سینئر افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ پبلک سیکٹر کے پاور ہاؤسز کو بند کرکے نجی شعبے کو تیل گیس فراہم کرکے بجلی کیوں خریدی جارہی ہے سپریم کورٹ اس کا از خود نوٹس لے کر اصل حقائق معلوم کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…