جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

زکوٰۃ مال کی میل ہے ،اتنے عالیشان بچوں کو مال کی میل کھلانا ٹھیک نہیں، مولانا طارق جمیل نے کپڑوں کا برانڈ لانچ کرنے کی وجہ بتادی

datetime 17  مئی‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد /مکوآنہ (این این آئی ) ملک کے معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے کپڑوں کا برانڈ لانچ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ہم تقریباً 10 مدارس چلا رہے ہیں جن کے لیے ہم لوگوں سے زکوٰۃ لیتے ہیں، عام مدارس میں لوگوں کی طرف سے چندہ مانگنے کی ایک پوری کمپین چلائی جاتی ہے لیکن میرا ایسا معاملہ نہیں ہے

بلکہ میں چند دوستوں کو فون کردیتا ہوں تو وہ آ جاتے ہیں ، لیکن گزشتہ برس عالمی وباء کورونا وائرس کی وجہ سے لوگ معاشی طور پر تنگی کا شکار ہوئے تو ان کا حال بھی پتلا ہوگیا ، جبکہ میں بہت عرصہ سے سے دعا کرتا تھا کہ یا اللہ مدرسے کا بغیر زکوٰۃ کے اپنا کوئی ذریعہ آمدن بنادے کیوں کہ زکوٰۃ مال کی میل ہے اور اتنے عالی شاہ بچوں کو مال کی میل کھلانا ٹھیک نہیں ہے ، ہم مدارس چلانے کے لیے لوگوں سے بھیک مانگتے ہیں جس کی وجہ سے میرا سینہ تنگ پڑتا تھا لیکن میرے سامنے بھی کوئی راستہ نہیں تھا۔ایک انٹرویو میں مولانا طارق جمیل نے بتایا کہ گزشتہ برس میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مدرسے بند کرنا پڑے تو بند کردوں گا لیکن میں زکوٰۃ نہیں مانگوں گا، کوئی ہمارے ذمے تو نہیں ہے ایک ہزار کو پڑھانا ، لوگوں کی طرف سے خود سے پہنچایا گیا جتنا بھی ہمارے پاس فنڈ ہوگا ، اس سے جتنا ممکن ہوسکا ہم اتنے بچوں کو پڑھائیں گے باقیوں سے معذرت کرلیں گے۔معروف عالم دین نے کہا کہ ایک دن بچوں نے بھی بیٹھے ہوئے سوچا کہ مدرسے کا اپنا ایک سورس ہونا چاہئے جس کے لیے کوئی برانڈ بنائیں، جب برانڈ کی بات آئی تو انہوں نے کپڑے اور پرفیومز کا برانڈ سوچا، بچوں نے مجھ سے کہا کہ ہم نے یہ سوچا ہے تو میں نے کہا اگر ہوسکتا ہے تو کرو۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنت میں تو مزے ہیں کہ جاؤ کھاؤ پیو ، لیکن ایک حدیث ہے کہ اگر جنت والے کاروبار کی اجازت مانگتے تو اللہ کے نبیؐ نے فرمایا کہ اللہ انہیں کپڑے اور خوشبو کا کاروبار کرنے کی اجازت دیتا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…