اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

زکوٰۃ مال کی میل ہے ،اتنے عالیشان بچوں کو مال کی میل کھلانا ٹھیک نہیں، مولانا طارق جمیل نے کپڑوں کا برانڈ لانچ کرنے کی وجہ بتادی

datetime 17  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد /مکوآنہ (این این آئی ) ملک کے معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے کپڑوں کا برانڈ لانچ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ہم تقریباً 10 مدارس چلا رہے ہیں جن کے لیے ہم لوگوں سے زکوٰۃ لیتے ہیں، عام مدارس میں لوگوں کی طرف سے چندہ مانگنے کی ایک پوری کمپین چلائی جاتی ہے لیکن میرا ایسا معاملہ نہیں ہے

بلکہ میں چند دوستوں کو فون کردیتا ہوں تو وہ آ جاتے ہیں ، لیکن گزشتہ برس عالمی وباء کورونا وائرس کی وجہ سے لوگ معاشی طور پر تنگی کا شکار ہوئے تو ان کا حال بھی پتلا ہوگیا ، جبکہ میں بہت عرصہ سے سے دعا کرتا تھا کہ یا اللہ مدرسے کا بغیر زکوٰۃ کے اپنا کوئی ذریعہ آمدن بنادے کیوں کہ زکوٰۃ مال کی میل ہے اور اتنے عالی شاہ بچوں کو مال کی میل کھلانا ٹھیک نہیں ہے ، ہم مدارس چلانے کے لیے لوگوں سے بھیک مانگتے ہیں جس کی وجہ سے میرا سینہ تنگ پڑتا تھا لیکن میرے سامنے بھی کوئی راستہ نہیں تھا۔ایک انٹرویو میں مولانا طارق جمیل نے بتایا کہ گزشتہ برس میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مدرسے بند کرنا پڑے تو بند کردوں گا لیکن میں زکوٰۃ نہیں مانگوں گا، کوئی ہمارے ذمے تو نہیں ہے ایک ہزار کو پڑھانا ، لوگوں کی طرف سے خود سے پہنچایا گیا جتنا بھی ہمارے پاس فنڈ ہوگا ، اس سے جتنا ممکن ہوسکا ہم اتنے بچوں کو پڑھائیں گے باقیوں سے معذرت کرلیں گے۔معروف عالم دین نے کہا کہ ایک دن بچوں نے بھی بیٹھے ہوئے سوچا کہ مدرسے کا اپنا ایک سورس ہونا چاہئے جس کے لیے کوئی برانڈ بنائیں، جب برانڈ کی بات آئی تو انہوں نے کپڑے اور پرفیومز کا برانڈ سوچا، بچوں نے مجھ سے کہا کہ ہم نے یہ سوچا ہے تو میں نے کہا اگر ہوسکتا ہے تو کرو۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنت میں تو مزے ہیں کہ جاؤ کھاؤ پیو ، لیکن ایک حدیث ہے کہ اگر جنت والے کاروبار کی اجازت مانگتے تو اللہ کے نبیؐ نے فرمایا کہ اللہ انہیں کپڑے اور خوشبو کا کاروبار کرنے کی اجازت دیتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…