ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

شہبازشریف کی ملکیتی رمضان شوگر ملز نے اربوںدبا لئے ، ادائیگی کی بجائے کس کام پر مجبور کیا جانے لگا؟کسانوں نے مکروہ چہرہ بے نقاب کردیا

datetime 22  اپریل‬‮  2019 |

چنیوٹ( آن لائن ) پنجاب حکومت شریف خاندان کی ملکیتی شوگر مل رمضان شوگر مل سے کسانوں کو ’’ گنا ‘‘ کی ادائیگی کرانے میں ناکام ہوگئی ہے جبکہ ہزاروں کسان ’’ گنا ‘‘ کی ادائیگی کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔ رمضان شوگر مل شہباز شریف کی ملکیتی مل ہے

جس نے کسانوں کے اربوں روپے دبا لئے ہیں ۔ ڈی سی آفس چنیوٹ کے باہر بھی سینکڑوں کسانوں نے احتجاج کیا اور حکومت پنجاب کے خلاف شدید نعرے بازی کی ہے کسانوں نے گنا کی ادائیگی کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیراعظم پاکستان عمران خان سے بھی اپیل کررکھی ہے لیکن ابھی تک اس پر عمل نہیں ہوا ہے ۔ رمضان شوگر مل انتظامیہ نے کسانوں کورقوم دینے کی بجائے زبردستی چینی فروخت کررہے ہیں جبکہ یہ چینی مارکیٹ کے ریٹس سے مہنگی دی جارہی ہے ۔شریف خاندان نے کسانوں پر واضح کردیا ہے کہ ان کو گنا کی ادائیگی نہیں کی جائے گی اور کسانوں کو مہنگے داموں چینی وصول کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔شریف خاندان کسانوں کو مہنگے داموں چینی فروخت کرکے اربوں روپے لوٹنا چاہتے ہیں۔ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسانوں کو گنا کی ادائیگی کرائے لیکن پنجاب کے کین کمشنر واجد علی شاہ بھی شریفوں کا آدمی ہے جو قانون کو حرکت میں لانے سے گریزاں ہے جبکہ وزیر زراعت نعمان لنگڑیاں بھی کمزور وزیر ہے جس کے پاس کسانوں کو انصاف دلوانے کیلئے کوئی طاقت نہیں ہے ۔عمران خان واحد امید کی کرن ہے جو کسانوں کے دکھوں کامداوا کرسکیں گے اور گنا کی ادائیگی کیلئے کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ڈی سی چنیوٹ پہلے ہی خوفزدہ ہیں وہ بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرپارہے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…