ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

سیاسی مداخلت اور کرپشن ، خیبرپختونخوا کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز نے ہڑتال کر دی

datetime 17  اپریل‬‮  2019 |

پشاور(اے این این ) خیبرپختونخوا کے تمام ہسپتالوں میں ڈاکٹرز نے ہڑتال کرتے ہوئے ایمرجنسی سروسز کے سوا تمام سروسز معطل کردیں۔خیبرپختونخوا میں ڈاکٹرز کے بڑے پیمانے پر تبادلے، سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری اور کرپشن کے خلاف ڈاکٹرز نے ہڑتال کردی۔

ڈاکٹرز نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال سے صوبائی اسمبلی تک لانگ مارچ کیا جس میں صوبہ بھر سے قافلوں کی شکل میں آئے ڈاکٹرز نے شرکت کی۔مظاہرین نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے سڑک کو بند کرکے دھرنا دے دیا جس کے نتیجے میں ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔ مظاہرین نے ڈاکٹروں کے ایم ٹی آئی ایکٹ اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی نامنظور کے نعرے لگائے۔ اس موقع پر ڈاکٹرز نے بینر اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پرغریب مریضوں کے لئے سستے اور معیاری علاج کی فراہمی یقینی بنائی جائے،ایم ٹی آئی ایکٹ اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی نامنظور۔سیاسی اور انتقامی بنیادوں پر تبادلے نامنظور۔ہسپتالوں میں سیاسی مداخلت ختم کی جائے ۔تمام ٹھیکوں کا فرانزک آڈٹ کیا جائے۔قانون کو بالائے طاق رکھ کر ذاتی پسند ناپسند پرترقیاں نامنظور جیسے مطالبات درج تھے ۔ڈاکٹرز کی تمام نمائندہ تنظیموں پر مشتمل خیبر پختونخوا ڈاکٹرز کونسل کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں کرپشن اور عوام دشمن پالیسیوں کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان ازخود ایکشن لیں، صوبے میں محکمہ صحت کی ناکام پالیسوں اور عوام دشمن پالیسوں کے خلاف بھر پور احتجاج ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…