ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

لاہور سے نارووال جانے والی فیض احمد فیض ایکسپریس کو تقریباً30 سے زائد نوجوانوں نے یرغمال بنا لیا

datetime 21  مارچ‬‮  2019 |

نارنگ منڈی ( آن لائن ) رات گئے لاہور سے نارووال جانے والی فیض احمد فیض ایکسپریس کو تقریباً30 سے زائد نوجوانوں نے نارنگ منڈی ریلوے سٹیشن پر یرغمال بنا لیا اور ایک گھنٹہ تک ڈرائیور اورگارڈ کو جان سے مار دینے کی دھمکی دے کر ٹرین کو روکے رکھا ویکیوم پائپ توڑدیئے اورٹرین کوناکارہ بنادیا ریلوے پولیس اپنی جانوں کو بچانے کے لئے غائب ہو گئی

مسافروں کی چیخ و پکار پر کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی ایک گھنٹہ بعد نارنگ منڈی پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات پر قابو پایا مقدمہ درج بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ ٹرین میں دو نوجوانوں کے مابین معمولی بات پر تصادم نے شدت اختیار کر لی چلتی ٹرین میں ہاتھا پائی اور گالی گلوچ کرتے رہے جس کے باعث خواتین بچوں اور بوڑھوں کو شدید پریشانی اٹھانا پڑی نوجوان عورتوں اور بچوں پر گرتے رہے بعد ازاں ایک نوجوان نے فون پراپنے ساتھیوں کوصورتحال سے آگاہ کیاجب ٹرین نارنگ منڈی رکی تواس کے دو درجن سے زائد ساتھی نارنگ منڈی ریلوے سٹیشن پہنچ گئے اورمذکورہ نوجوان کو تلاش کرکے اس قدروحشیانہ تشددکانشانہ بنایاکہ وہ خون میں لت پت بیہوش ہوکرپلیٹ فارم پرگرپڑا جب ڈرائیور نے ٹرین چلانے کی کوشش کی تو مسلح نوجوانوں نے ٹرین کے ویکیوم پائپ اتاردیئے ڈرائیور اور گارڈ کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیں جبکہ ڈنڈ ہ بردارگروپ کے وحشیانہ تشدد سے بدو ملہی کا فیصل محمود شدید زخمی ہو گیا جسے ریسکیو 1122نے فوری طور پر ہسپتال پہنچایا جہاں اس کی حالت نازک بیان کی جارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…