ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

شہید جاوید اقبال کے خاندان کو بڑی مالی امداد ، ڈی جی ریسکیو پنجاب نے بیوہ کو نوکری بھی دیدی

datetime 6  مارچ‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) ڈائریکٹر جنرل پنجاب ایمرجنسی سروس ڈاکٹر رضوان نصیر نے ریسکیور شہید جاوید اقبال کی فیملی کو 43لاکھ روپے سے زائد کی مالی امداد کا چیک اوربیوہ کونوکری فراہم کردی گئی۔شہیدجاوید اقبال شہید نے1مارچ ،2007کو بحیثیت فائر ریسکیور ایمرجنسی سروس ڈی جی خانمیں شمولیت اختیار کی اور انتہائی دل جمعی سے لوگوں کو ایمرجنسی سروس فراہم کی۔

شہید جاوید اقبال فرض کی ادائیگی کے دوران جب وہ ایک ایمرجنسی میں مدد کیلئے جا رہے تھے تو ایک ٹرالر اورایمبولینس آپس میں ٹکرا گئے جس وجہ سے جاوید اقبال فائرریسکیو اور امجد فاروق ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن شدید زخمی حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال ڈی جی خان شفٹ کردئیے گئے۔ جہاں پر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہیدجاوید اقبال فائر ریسکیو خالق حقیقی سے جا ملے۔ڈی جی ریسکیو پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر نے شہید جاوید اقبال کی بیوہ کو ریسکیو سروس ڈی جی خان میں نوکری پر تعینات کر دیا۔ ڈی جی ریسکیو پنجاب نے جاوید اقبال شہید کی بیوہ کو43لاکھ کا چیک دیا جبکہ اس موقع پر شہید کے والد غلام فرید بھی موجود تھے۔ چیک کے ساتھ ساتھ شہیدکے تین بچوں کو الائیڈ سکول میں مفت تعلیم اور پانچ سال کے قوت سماعت سے محروم بیٹے کا مفت علاج کروایا جا رہا ہے۔ رجسٹرار اکیڈمی فرحان خالد ، ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ فہیم احمد قریشی، ڈپٹی ڈائریکٹرایچ آر فواد شہزاد مرزا، ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس اعجاز ورک ، سوشل ویلفئیر آفیسر سمیرا لیاقت اور ہیڈ کوارٹر آفیسرز کے ساتھ ساتھ شہداء کے عزیز و اقارب بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ ڈاکٹر رضوان نصیر نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شہداء کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہی وہ ریسکیورز ہیں جو ایمانداری، جرات اور پیشہ وارانہ مہارت سے لوگوں کی خدمت کرتے ہیں اور یہ شہیدر یسکیورز قوم کے حقیقی بیٹے ہیں۔ قوم کو ان کی بہادری اور پیشہ وارانہ مہارت پر ناز ہے۔

اور انکی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔شہیدجاوید اقبال کے والد غلام فرید نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ میں شہید کا باپ ہوں اور میرے بیٹے نے ملک اور قوم کیلئے اپنی جان کی قربانی دی ہے۔ اور مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میرا بیٹا ایک ایسی سروس کا حصہ تھا جو ہر حادثے میں لوگوں کی جان بچانے کیلئے ہر دم تیار رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ریسکیو سروس اور بانی ڈائریکٹر جنرل کے مشکور ہیں جنہوں نے ہماری پوری فیملی کا ہر لحاظ سے خیال رکھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…