ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

شہریوں کے بیرون ملک کرنسی لے جانے کی حد کم کرنے کافیصلہ،اب 10ہزار ڈالر کے بجائے کتنے ہزار ڈالر لے جانے کی اجازت ہوگی؟تفصیلات جاری

datetime 18  ستمبر‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی) وفاقی حکومت کی جانب سے منی لانڈرنگ اورٹیررازم فنانسنگ کی روک تھام کے اقدامات کے تحت بیرون ملک سفر کے لیے نقدرقم لے جانے کی موجودہ حد 10ہزارڈالر سے کم کرکے 3 ہزار ڈالر مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ دستاویزکے مطابق کسٹمز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے یہ تجویز دی گئی ہے کہ

بیرون ملک جانے والے افرادکے فی دورہ اپنے ساتھ10ہزارڈالر تک نقد رقم لے جانے کی مقررہ حد پرنظر ثانی کی جائے اور مسافروں کو3 ہزار ڈالر تک کرنسی ساتھ رکھنے کی اجازت دی جائے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے بیرون ملک سفر کے لیے 10 ہزار ڈالرفی دورہ کے حساب سے غیر ملکی کرنسی لے جانے کی اجازت ہے اوراس مد میں ایک مسافر سالانہ زیادہ سے زیادہ 60ہزار ڈالرتک کرنسی پاس رکھ سکتا ہے تاہم کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کی تجویز پرعمل درآمد کی صورت میں سالانہ نقد رقم ساتھ لے جانے کی حد 60 ہزارڈالر سے کم ہوکر15ہزار ڈالر ہوجائے گی۔ادھر ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ اور ٹیررازم فنانسنگ کی روک تھام کے لیے کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے دی جانے والی تجویز پر غور کیا جارہا ہے اور یہ معاملہ اسٹیٹ بینک کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔حکام کے مطابق حکومت کی منظوری سے ہی مسافروں کے لیے بیرون ملک سفر کے دوران اپنے ساتھ نقد رقم لے جانے کی حدکم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…