ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

سادگی اور کفایت شعاری مہم کے تحت وزیر اعظم ہاؤس میں گاڑیوں کی بولی کا عمل مکمل ٗ 102میں سے کتنی گاڑیاں نیلام ہوئیں اور کتنی رقم حاصل ہوئی؟تفصیلات جاری

datetime 17  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی) سادگی اور کفایت شعاری مہم کے تحت وزیر اعظم ہاؤس میں گاڑیوں کی بولی کا عمل مکمل ہوگیا جس کے دوران 102 میں سے 61 گاڑیاں نیلام کردی گئیں۔ایڈمنسٹریٹر وزیراعظم ہاؤس میجر آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جن گاڑیوں کی بولی نہیں لگی، ایف بی آر ان کی قیمتوں کا دوبارہ تعین کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ نیلامی کے لیے پیش کی گئی 102 گاڑیوں کی مالیت ایک ارب روپے سے زائد تھی۔میجر آصف کے مطابق 61 گاڑیوں کی نیلامی

سے تقریبا 20 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔انہوں نے کہا کہ امید تھی بم پروف گاڑی کی بولی 16 کروڑ سے اوپر جائے گی، دو بم پروف گاڑیوں میں سے کوئی نیلام نہیں ہوئی۔ایڈمنسٹریٹر وزیراعظم ہاؤس کا کہنا تھا کہ27 لگڑری اور بلٹ پروف گاڑیوں میں سے 7 کی نیلامی ہوئی۔مجموعی طور پر وزیراعظم ہاؤس کے لیے کابینہ ڈویژن کے پاس 200 سے زائد گاڑیاں ہیں، جن میں سے 102 گاڑیاں پہلے مرحلے میں اور باقی آئندہ نیلام کی جائیں گی۔نیلام کی جانے والی کئی گاڑیاں وزیراعظم کے پروٹوکول جبکہ کئی غیر ملکی مہمانوں کے پروٹوکول کی ہیں۔اس حوالے سے سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ عوام دیکھ رہے ہیں کہ ان کے ٹیکس کی رقم کہاں خرچ ہوتی رہی، اب یہ پیسہ واپس خزانہ میں جمع کرائیں گے۔واضح رہے کہ نیلامی کے لیے پیش کی گئی گاڑیوں میں سے 72 گاڑیاں 10 سال سے بھی پرانے ماڈل کی ہیں، ایک جیپ 32 سال پرانی ہے جبکہ کئی تو بالکل کھٹارا ہیں۔ سادگی اور کفایت شعاری مہم کے تحت وزیر اعظم ہاؤس میں گاڑیوں کی بولی کا عمل مکمل ہوگیا جس کے دوران 102 میں سے 61 گاڑیاں نیلام کردی گئیں۔ایڈمنسٹریٹر وزیراعظم ہاؤس میجر آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جن گاڑیوں کی بولی نہیں لگی، ایف بی آر ان کی قیمتوں کا دوبارہ تعین کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…