ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

اضافی تنخواہیں لینے والے سرکاری ملازمین کی شامت آگئی، چیف جسٹس ثاقب نثار نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 15  ستمبر‬‮  2018 |

اضافی تنخواہیں لینے والے سرکاری ملازمین کی شامت آگئی، چیف جسٹس ثاقب نثار نے بڑا حکم جاری کردیا لاہور (این این آئی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے اضافی تنخواہوں سے متعلق کیس میں ڈی جی نیب کوہدایت دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق الاؤنسز لینے والے افسروں کے نام نکال کر اضافی تنخواہیں لینے والے افسران کی نظر ثانی شدہ فہرست دی جائے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے سرکاری کمپنیوں سے اضافی تنخواہوں کی وصولی سے متعلق ازخود کیس کی سماعت سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کی۔سیکرٹری ٹو وزیر اعلیٰ پنجاب راحیل صدیقی نے عدالت کو بتایاکہ انہوں نے اضافی تنخواہ وصول نہیں کی، صرف قانون کے مطابق الاؤنسز لئے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ڈاکٹر راحیل احمد صدیقی اور جاوید احمد تو قانون کے مطابق الاؤنسز لے رہے ہیں، نیب قانون کے تحت الاؤنسز لینے والے افسروں کے ناموں سے عدالت کو آگاہ کرے۔جسٹس ثاقب نثارنے ریمارکس دیئے کہ نیب افسران اپنا کام دفتر میں کر کے آیا کریں، ڈی جی نیب شہزاد سلیم ایماندار افسر ہیں، انہیں پتہ ہے کام کیسے کرنا ہے۔نیب نے عدالت کوبتایا کہ اضافی تنخواہیں لینے والے افسروں سے وصولیوں کیلئے رضاکارانہ اکاؤنٹ کھول دیا گیا ہے۔چیف جسٹس نے ڈی جی نیب کوقانون کے مطابق الاؤنسز لینے والے افسروں کے نام اضافی تنخواہیں لینے والے افسران کی فہرست سے نکالنے کی ہدایت کر دی اور حکم دیاکہ افسران کی نظر ثانی شدہ فہرست مرتب کرکے ایک ہفتے میں رپورٹ جمع کرائی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…