ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

اگر آپ مجھے پسند نہیں کرتے تو۔۔ وزیراعظم عمران خان نے بیوروکریٹس سے خطاب میں ایسا اعلان کر دیا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، سب دنگ رہ گئے

datetime 14  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے سول سروس سرونٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتساب بہت ضروری ہے تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ بیوروکریسی کے اوپر ناجائز دبائو نہ پڑے ۔ انہوں نے کہا کہ سارا مسئلہ کرپشن کا ہے اور کرپشن کیلئے ادارے تباہ کئے گئے۔ عمران خان نے سول سروس سرونٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ

احتساب کے عمل کے دوران بیوروکریسی پر کسی بھی قسم کا ناجائز دبائو نہیں آنے دینگے۔ عمران خان نے کہا کہ بیوروکریسی کو سیاسی مداخلت سے پاک کرینگے اور ہماری سول سروس میں ریفارمز کے حوالے سے کچھ لوگ گھبرائے ہوئے ہیں ، وزیراعظم نے کہا کہ ہماری ریفارمز سے بیوروکریسی پر سیاسی دبائو میں کمی آئے گی ، لوگوں کوگھبرانے کی ضرورت نہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا آپ کی کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستگی ہو مجھے اس سے کوئی لینا دینا نہیں میری دلچسپی صرف آپ کے ملک کیلئے کام سے ہے۔ آپ کو چاہے تحریک انصاف اچھی لگتی ہے یا نہیں ، چاہے عمران خان اچھا لگتا ہے یا نہیں اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بیوروکریسی کو سیاسی دبائو اور مداخلت سے پاک کرینگے۔عمران خان نے کہا کہ بیوروکریسی کی شکایت پر چیئرمین نیب سے بھی بات کی ہے۔ آپ لوگ چانسز لیں ، غلطیاں کس سے نہیں ہوتیں ، مجھ سے سب سے زیادہ ہوئیں تاہم غلطی اور فنانشل چوری میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ میرے خطاب کا مقصدآپ کو حقائق سے آگاہ کرناہے ،ہم تو آتے جاتے رہتے ہیں مگر سرول سرونٹس مستقل رہتے ہیں ، سرکاری ملازمین ہر حکومت کا حصہ ہوتے ہیں ، سول سرونٹس معاشی صورتحال کو بہتر طور پر جانتے ہیں ۔عمران خان کا کہناتھا کہ کبھی پاکستان کو اتنے چیلنج نہیں تھے جو آج ہیں ، قرضہ دس سالوں میں چھ ہزار ارب سے

تیس ہزار ارب ہو گیاہے ،ہر روز ہم قرض پر چھ ارب روپے انٹرسٹ دے رہے ہیں ، ہم جب تک اپنے قرضوں کی قسطیں ادا کرتے ہیں تو ملک چلانے کیلئے ہمیں مزید قرضہ لیناپڑتاہے ، اس سے نکلنے کیلئے ہم نے اپنے آپ کو بدلناہے۔ سیاستدانوں ،عوام اور بیوروکریسی کو اپنے آپ کو بدلنا ہو گا ، اگر ہم نہیں بدلیں گے تو آگے تباہی ہے ۔ہمارے پاس ملک چلانے کیلئے پیسہ نہیں ہے ،

کلاسک ڈیٹ ٹریپ میں قرضوں کو اتارنے کیلئے مزید قرضے لینے پڑتے ہیں ۔عمران خان کا کہناتھا کہ دنیا میں کوئی چیز ناممکن نہیں ، محنت کی جائے تو سب کچھ حاصل کیا جاکستاہے ،خود کو بدلنا پڑتاہے ،ہماے پاس ملک چلانے کیلئے خزانہ ہی خالی ہے ،ہم آزاد تو ہو گئے لیکن ہم نے اپنے مائینڈ سیٹ کو تبدیل نہیں کیا ہے ، انگریز ہمارے پیسوں پر شاہانہ زندگی گزار رہے تھے ،ہم نے انگریزوں کا مائنڈ سیٹ ختم نہیں کیا ،ہماری ایلیٹ کی سوچ وہی ہے جو کہ انگریز چھوڑ کر گئے تھے ،اورنج ٹرین جیسے منصوبے قرض لے کر بنائے گئے جو کہ نقصان میں ہیں ،ہم نے اپنی پور ی سوچ تبدیل کرنی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…