ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

عوام کو حکومت کا ایک اور جھٹکا،بجلی کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی منظوری دیدی گئی

datetime 14  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے عوام پر توانائی بم گراتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں چار روپے اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ قومی ادارے نیپرا نے گزشتہ سال کی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں تقسیم کار کمپنیوں کو عوام سے 180 ارب روپے وصول کرنے کی اجازت دی ہے۔ نیپرا کی جانب سے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، لاہور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (لیسکو) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کے لیے پہلے ہی

قیمتوں کی سالانہ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ کیا جا چکا تھا۔پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) نے 17 ارب روپے، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) نے 23 ارب روپے اور حیدر آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) نے نیپرا سے 15 ارب روپے کی ایڈجسٹمنٹ کی وصول کی درخواست کی تھی۔سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) نے چھ ارب روپے گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) نے دس ارب روپے اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) نے بھی نو ارب روپے سے زائد کی ایڈجسمنٹ وصول کرنے کے لیے نیپرا سے درخواست کی تھی۔بجلی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کی تفصیل کے مطابق نیپرا نے گیپکو کو سات ارب روپے جب کہ حیسکو کو 19 ارب روپے کے بقایا جات وصول کرنے کی اجازت دی ہے۔میپکو کو ملتان کے شہریوں سے 40 ارب روپے اور پیپکو کو خیبرپختونخوا کی عوام سے 26 ارب روپے کے واجبات وصول کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔نیپرا ذرائع کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافہ گزشتہ مالی سال کی چار سہ ماہیوں کے بقایا جات کی مد میں کیا گیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے عوام پر توانائی بم گراتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں چار روپے اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ قومی ادارے نیپرا نے گزشتہ سال کی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں تقسیم کار کمپنیوں کو عوام سے 180 ارب روپے وصول کرنے کی اجازت دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…