ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

شہر قائد کراچی سے ایسی چیز دھڑا دھڑ غائب ہونے لگی کہ لوگوں کا سکھ چین چھن گیا، سندھ ہائیکورٹ نے فوری طور پر بڑا قدم اٹھا لیا

datetime 13  ستمبر‬‮  2018 |

کراچی (نیوز ڈیسک)سندھ ہائی کورٹ نے شہر قائد میں اغوا اور گمشدہ بچوں کی بازیابی میں ناکامی پر آئی جی سندھ کو طلب کرلیاہے۔جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ میں اغوا اور گمشدہ بچوں کی بازیابی کی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ بچوں کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی تنظیم روشنی ہیلپ لائن کے وکیل نے عدالت میں بتایا کہ پولیس بہت سارے گمشدہ بچوں کی ایف آئی آر ہی درج نہیں کرتی،

تھا نے میں لواحقین کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے۔ گمشدہ بچوں کی عدم بازیابی پر عدالت نے پولیس پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی سندھ سید کلیم امام کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔سندھ پولیس کے نمائندے اور ڈی آئی جی کرائم برانچ غلام سرور جمالی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ عدالت نے ڈی آئی جی غلام سرور جمالی سے بچوں کی بازیابی میں پیش رفت سے متعلق استفسار کیا کہ تو انہوں نے جواب دیا کہ 23 میں سے ایک بچی گھر واپس آگئی ہے۔عدالت نے اس جواب پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باقی بچوں کا کیا ہوا، بازیابی کے لیے اجلاس کب ہوگا، یہ ہے فوکل پرسن کی کارکردگی، یہ کاغذ کا ٹکڑا لے آئے ہیں، آپ کی کارکردگی خراب اور پیش رفت سست ہے، آئی جی سندھ کو کہا بھی تھا کہ کسی فعال ڈی آئی جی کو اس کام پر لگائیں، ایک ٹیم تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی تھی۔ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ کو معاملہ کسی فعال اور چست ڈی آئی جی کے سپرد کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی بازیابی کے لیے ٹیم بھی تشکیل دی جائے، آئی جی سندھ اگلی سماعت پر خود پیش ہوں اور کارکردگی رپورٹ پیش کریں، اس کام کے لیے تمام وسائل بروئے کارلائے جائیں۔عدالت نے سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی ایک خبر سامنے آئی تھی کہ ایک خاتون سے اس کی رہائش گاہ کے باہر گود میں اٹھائی بچی چھین لی گئی جس پر اہل خانہ نے پولیس سے رابطہ کیا اور رپورٹ درج کروائی تاہم ابھی تک بچی کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…