جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

عمران خان اور سلیم صافی کے درمیان ماضی میں تلخ کلامی کا انکشاف ،وجہ کون بنا؟معروف صحافی نے اہم راز سے پردہ اٹھا دیا

datetime 26  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی،اینکر پرسن و کالم نگار سلیم صافی نے کہاہے کہ میری عمران خان سے زندگی میں صرف ایک مرتبہ تلخ کلامی ہوئی تھی اور وہ بھی ڈاکٹر محمد فاروق کی شہادت کے بعد ۔نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے ان کا کہناتھا کہ اگر زندگی میں کبھی میری عمران خان سے تلخ گفتگو ہوئی تو وہ صرف فاروق خان کی شہادت کے بعد ، وہ میرے بڑے بھائی تھے اور محسن بھی تھے ،

فاروق خان کسی زمانے میں عمران خان کے دوست تھے اور ان کی پارٹی کے بانی جنرل سیکرٹری بھی تھے ۔ اسوقت جاوید احمد غاندی کے ماڈل ٹاﺅن کے ای بلاک میں واقع چھوٹے سے گھر میں سیاست پر مشاورت ہو تی تھی جس میں حمید گل ، محمد علی درانی اور ڈاکٹر فاروق شامل ہوا کرتے تھے ، میں ڈاکٹر فاروق خان کے ساتھ وہاں اس وجہ سے چلا جایاکرتاتھا کہ میں طالبعلم تھا اور عمران خان کا فین بھی تھا ۔سلیم صافی کا کہنا تھا کہ جب طالبان نے ڈاکٹر فاروق خان کو شہید کیا تو اس پر باقی سب لوگ ان کے جنازے اور فاتحہ خوانی میں گئے لیکن عمران خان ان کی فاتحہ خوانی کیلئے بھی نہیں گئے ۔عمران خان صاحب دہشتگردی کے خلاف جنگ پر کتاب لکھ رہے تھے تو اس معاملے پر انہوں نے مجھ سے کچھ سوالات کیے ، اس بات کے عقیل یوسفزئی بھی گواہ ہیں جو کہ پشاور کے معروف صحافی ہیں ۔ میں نے عمران خان سے گلہ کیا کہ آپ ان کی فاتحہ پر بھی نہیں گئے جبکہ ان کا آپ کے ساتھ فیملی تعلق تھا ۔ اس وقت عمران خان نے ایسے الفاظ استعمال کیے کہ میری اور عمران خان کی تلخ گفتگو ہوگئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…