اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)وفاقی خلائی ادارے ناسا کے پرزیورینس روور نے مریخ کی چٹانوں میں ایسے پیچیدہ کاربن مرکبات دریافت کیے ہیں جنہیں سائنس دان غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں، کیونکہ ان میں قدیم خوردبینی حیات کے ممکنہ آثار موجود ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
روور کے ’’شرلوک‘‘ نامی سائنسی آلے کے ذریعے حاصل ہونے والے شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ ’’برائٹ اینجل آؤٹ کراپ‘‘ کے نام سے معروف چٹانی علاقے میں نامیاتی کاربن پایا گیا ہے۔ یہ مقام ’’نیریٹوا ویلس‘‘ کے قریب واقع ہے، جو ایک قدیم دریا کا خشک بستر سمجھا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اربوں برس قبل یہ دریا جیزیرو کریٹر تک پانی پہنچاتا تھا۔
ماہرین کے مطابق دریافت ہونے والا مادہ ’’میکرو مالیکیولر کاربن‘‘ (MMC) کہلاتا ہے۔ بعض حالات میں اس قسم کے کاربن کا تعلق جانداروں سے بھی ہوسکتا ہے، تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ مادہ قدرتی ارضیاتی عمل کے نتیجے میں بھی وجود میں آ سکتا ہے، اس لیے اسے مریخ پر زندگی کے حتمی ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
ایریزونا کے پلینیٹری سائنس انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ڈاکٹر ایشلے مرفی کے مطابق ایم ایم سی مختلف ماحول اور چٹانی ساختوں میں پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مادہ بعض اوقات خردبینی جانداروں کے باقیات یا نامیاتی مادے سے بھی پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ پانی اور چٹانوں کے باہمی تعامل یا شہابی پتھروں کے اثرات سے بھی اس کی تشکیل ممکن ہے۔
یہی برائٹ اینجل آؤٹ کراپ گزشتہ برس بھی سائنسی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنا تھا، جب روور نے وہاں ایسے دھبے اور ساختیں دریافت کی تھیں جو زمین پر پائے جانے والے بعض قدیم جرثوموں کے فوسلز سے مشابہت رکھتی تھیں۔
ان دریافتوں کے منظرعام پر آنے کے بعد ناسا کے سابق قائم مقام سربراہ شان ڈفی نے کہا تھا کہ یہ شواہد مریخ پر ماضی کی زندگی کے حوالے سے اب تک کا سب سے مضبوط اشارہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس کے باوجود سائنس دان محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ دریافت نہایت اہم ہے، تاہم موجودہ شواہد کی بنیاد پر مریخ پر قدیم حیات کی موجودگی کا قطعی اعلان کرنا قبل از وقت ہوگا۔



















































