جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

آسٹریلیا کے طوطوں نے براڈ بینڈ کی قیمتی تاروں کو کاٹ ڈالا

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (ویب ڈیسک) آسٹریلیا کے ملٹی ملین ڈالر براڈ بینڈ نیٹ ورک کو بڑی چونچ والے طوطوں کی جانب سے حملوں کا سامنا ہے۔دی نیشنل براڈ بینڈ نیٹ ورک (این بی این) کا کہنا ہے کہ طوطوں نے جن تاروں کو چبایا ہے ان کو ٹھیک کرنے پر اب تک دسویں ہزاروں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ خیال رہے کہ آسٹریلین براڈ بینڈ پر

اس کی سست رفتاری کی وجہ سے پہلے ہی تنقید کی جا رہی ہے۔ یہ بھی پڑھیے سمندری پرندے طویل سفر میں اپنی قوت شامہ استعمال کرتے ہیں وہ پرندے جو تحفے دیتے ہیں دنیا کے نایاب ترین پرندے کا نیا گھر ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق یہ انٹرنیٹ کی رفتار کے لیے دنیا میں 50 ویں نمبر پر ہے۔ این بی بی کا تخمینہ ہے کہ اس خرابی کو دور کرنے کے لیے آنے والی لاگت تیزی سے بڑھ جائے گی کیونکہ تاروں کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ آسٹریلیا میں انٹرنیٹ کی رفتار کو بہتر بنانے کی کوشش میں جو فی الحال بہت سے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں 11.1 میگا بیٹس فی سیکنڈ پر چلتا ہے ایک قومی ٹیلی مواصلات کے بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جو سنہ 2021 میں مکمل ہو گا۔ سائٹس پرجانے والے انجنیئروں کا کہنا ہے کہ تاروں کو بری طرح سے چبایا گیا ہے۔ اور یہ کام بڑی چونچ والے طوطوں کا ہے جو عام طور پر پھل، گری، لکڑی یا درختوں کے چھال کھاتے ہیں تاریں نہیں۔این بی این کا کہنا ہے کہ انھیں پاور اور فائیبر تاریں بدلنی پڑیں اور ہر بار ان پر دسیویں ہزاروں ڈالر خرچ ہوئے۔ کمپنی کے مطابق وہ اب تک اس کام پر اسی ہزار آسٹریلین ڈالرز خرچ کر چکے ہیں۔ جانوروں کے رویے پر کام کرنے والی گیسیلا کپلان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا طوطےاس طرح تاریں نہیں کاٹتے غالباً تاروں کی ساخت یا رنگ نے انہیں متوجہ کیا ہوگا۔ ‘وہ مسلسل اپنی چونچوں کو تیز کر رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں اپنے سامنے آنے والی کسی بھی چیز پر حملہ کریں گے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…