ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

دل کے مریض کی جان بچانے والی جیکٹ تیار

datetime 25  اگست‬‮  2015 |

لندن(نیوز ڈیسک) برطانوی کمپنی نے ٹھنڈک پیدا کرنے والی ایسی جیکٹ تیار کی ہے جس کے ہنگامی طور پر استعمال سے دل کے مریض کی جان بچائی جاسکتی ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دل کے دورے میں ہنگامی طبی امداد مثلاً ڈی فلبریٹر ( کرنٹ پہنچانے والا نظام) کےساتھ اگر سرد جیکٹ کا بھی استعمال کیا جائے تو 20 فیصد مریضوں کی جان بچائی جاسکتی ہے۔ برطانوی کمپنی نے ٹھنڈک پیدا کرنے والی ایسی جیکٹ تیار کی ہے جس میں کوئی تار یا الیکٹرونک آلات نصب نہیں، ربڑ کی گرم بوتلوں کی طرح اس میں ایک ٹیوب سے ٹھنڈا پانی بھرا جاتا ہے اور مریض کو جیکٹ پہنادی جاتی ہے اوراس کے اندر موجود کیمیکل پانی کو منفی 4 ڈگری تک ٹھنڈا کردیتے ہیں جسے مریض کے جسم پر پہنا دیا جاتا ہے۔
پولی یوریتھین سے تیار شدہ اس جیکٹ کو لندن اور برائٹن میراتھن میں آزمایا گیا تھا اور اس سے 3 افراد کی جانیں بچائی گئی تھیں۔ جیکٹ کو ایمبولینس میں رکھتے ہوئے ہارٹ اٹیک کےمریضوں کو راستے میں ہی بڑے نقصان سے بچایا جاسکتا ہے جب کہ عوامی اجتماعات، ایئرپورٹس اور میراتھن جیسے مقابلوں میں اس کے ذریعے جان بچانا ممکن ہے۔
سی اے ای آر ویسٹ نامی اس جیکٹ کے موجد ڈاکٹر رولی کوٹنگھم نے کہا کہ اگر اسے ڈی فلبریٹر کے ساتھ استعمال کیا جائے تو اس کے بہت مثبت اثرات ظاہر ہوتے ہیں اسے پھر اسے گرمی اور لو لگنے اور شدید چکر کی صورت میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے تاہم اپنے کیمیکل کی وجہ سے یہ صرف ایک مرتبہ استعمال ہوسکتی ہے اور اس کی قیمت 500 برطانوی پاو¿نڈ یا 80 ہزار پاکستانی روپے ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سر کو ٹھنڈا کرنے کے آلات بھی بنائے گئے جو مو¿ثر ثابت نہ ہوئے لیکن یہ جیکٹ دھڑ کو ٹھنڈا کرکے دماغ کے لیے آکیسجن کی ضرورت بھی کم کرتا ہے اور ہر 8 منٹ میں جسم کا درجہ حرارت ایک ڈگری سینٹی گریڈ کم کردیتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…