اتوار‬‮ ، 28 جون‬‮ 2026 

کائنات رفتہ رفتہ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے، سائنسدانوں کا انکشاف

datetime 13  اگست‬‮  2015 |

لندن(نیوز ڈیسک) آسمان پر جگمگاتے چاند ستارے اور کہکشائیں رات کی تاریکی میں اپنی چمک سے ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں جو آنکھوں کو سکون اور راحت دیتا ہے لیکن اب سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ کائنات کی چمک دمک رفتہ رفتہ ماند پڑ رہی ہے اور اپنی اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے۔
دنیا بھر کے 100 سے زائد عالمی شہرت یافتہ سانس دانوں اور ماہرین فلکیات کی جانب سے کئی سالوں سے کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہماری کائنات میں چمکتے دمکے اور روشن نظر آنے والے ستاروں اور کہکشاو¿ں کی روشنی رفتہ رفتہ مدھم ہوتے ہوئے اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کافی عرصے سے ان کا ماننا ہے کہ ستاروں کی روشنی کم ہوتی جارہی ہے لیکن گزشتہ سالوں میں کی جانے والی تحقیق سے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ستاروں کی روشنی کم ہونے کا عمل ان کی سوچ سے کہیں تیز ہے۔
سائنس دانوں نے تحقیق کیلیے دنیا کی طاقتور ترین ٹیلی اسکوپ سے ستاروں کے بارے میں ڈیٹا جمع کیا اور اس دوران 2 لاکھ سے زائد کہکشاو¿ں کا مطالعہ کیا گیا اور تحقیق کے دوران تجزیاتی مشاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آج سے 2 ارب سال قبل ان ستاروں سے نکلنے والی تابکاری کم کم ہوتے آج نصف رہ گئی ہے۔ تحقیق کرنے والی ٹیم نے تابکاری کے اس عمل کو روشنی کی موجوں کے اسپیکٹرم اور الیکٹرو مقناطیسی تابکاری کو چیک کیا اور بتایا کہ یہ ویو لینتھ الٹرا وائلیٹ سے انفرا ریڈ تک مسلسل مدھم پڑ رہی ہیں۔
سائنس دان سائمن ڈرائیور کا کہنا ہے کہ زمین اپنے سورج کے غروب کے دور سے گزر رہی ہے یعنی کائنات تاریکی کی طرف بڑھ رہی ہے تاہم کائنات کی موت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ کائنات کہیں چلی جائے گی بلکہ یہ اپنی جگہ رہے گی تاہم ستاروں سمیت روشنی خارج کرنے والے عناصر کی روشنی ختم ہوجائے گا جس کے نتیجے میں ستارے مدھم، تاریک اور سنسان جگہ میں تبدیل ہوتے جائیں گے تاہم انہیں مکمل تاریک ہونے میں اربوں سال لگ جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…