جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

زحل“ سیارے کے گرد بننے والے رنگ برنگے دائروں کا راز کھل گیا

datetime 7  اگست‬‮  2015 |

نیویارک(نیوز ڈیسک) اب تک دریافت ہونے والے سیاروں میں سے زحل واحد سیارہ ہے جس کےگرد رنگ برنگے دائرے یا ”رنگس“ بنتے ہیں لیکن 400 سال قبل اس کی دریافت سے لے کر اب تک یہ راز ہی تھا کہ یہ دائرے بنتے کیوں ہیں تاہم اب سائنس دانوں نے اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سیارہ زحل پربرف اورچٹانوں کی آپس میں باربارٹکراو¿ سے ہونے والے تباہی سے اس کے گرد دائرے بن جاتے ہیں جب کہ اس انکشاف سے زحل پر ادھر ادھر گھومتے ہوئے ذرات کی وضاحت کرنے میں بھی مدد ملے گی، سائنس دانوں کے نزدیگ یہ ذرات 10 فٹ سے لے کر 32 فٹ تک بڑے ہوجاتے ہیں جو کہ عام طور پر کسی اور سیارے پر نظر نہیں آتے۔تحقیق کے مطابق زحل کے گرد بننے والا ہر رنگ یا لیئر مخصوص ذرات کے سائز کے مطابق بنتی ہے جب کہ اس طرح کے رنگس کچھ عرصے سے زیادہ واضح نظر آنے لگتے ہیں۔ ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ اس انکشاف سے دیگر سیاروں کے گرد بننے والے دائروں کا بھی راز سامنے لایا جا سکتا ہے۔ماہرین فلکیات کا ماننا ہے کہ بڑے سائز کے ذرات کم رفتار سے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں جس کی وجہ سے چھوٹے ذروں کی رفتار بڑھ جاتی ہے اور وہ زیادہ رفتار سے ا?پس میں ٹکراتے ہیں جب کہ یہ ٹوٹنے کا عمل کافی عرصے تک جاری رہتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے مشتری، نیپچون اور یورینس کے گرد بننے والے دائروں کا راز بھی افشا کرنے میں مدد ملے گی جب کہ اس سے اس مشکل کا بھی حل مل جائے گا کہ ہمارے نظام شمسی سے باہر یہ دائرے کیوں نظر آتے ہیں۔یونیورسٹی آف لیسٹر کے پروفیسر اور اس تحقیق کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ان دائروں کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ دائرے برف کے ذرات پر مشتمل ہوتے ہیں اور ان کا سائز 32 فٹ تک ہوتا ہے جب کہ یہ ذرات زمانہ قدیم میں یہاں ہونے والی کسی بڑی تباہی کی باقیات ہیں اسی لیے یہ اپنے سائز میں بہت چھوٹے اور بہت بڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اصول صرف زحل کے لیے نہیں بلکہ تمام ہی سیاروں پر لاگو ہوتا ہے اور وہاں بننے والے دائرے بھی اسی طرح وجود میں آئے ہیں۔واضح رہے کہ سیارہ زحل کو 1610 میں سائنس دان گلیلیو نے دریافت کیا تھا اور 400 سال تک اس کے گرد بننے والے رنگ برنگے دائرے سائنس دانوں کے لیے معمہ بنے ہوئے تھے



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…