جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بنائیے ایپلی کیشنز اور کمائیے پیسہ

datetime 12  جولائی  2015 |
Mobile communications and social networking concept: row of touchscreen smartphones with cloud of application icons isolated on black background with reflection effect

اسلام آباد(نیوزڈیسک)آئیڈیا اور اس لو عمل میں لانے کی صلاحیت دو الگ چیزیں ہیں۔ ہوسکتا ہے آپ کے ذہن میں کسی عمارت کا خیال ابھرے، تاج محل سے بھی زیادہ حسین عمارت کا تصور، لیکن آپ کیوں کہ فنِ تعمیر سے ذرا بھی واقفیت نہیں رکھتے، نہ نقشہ نویسی سے واقف ہیں، اس لیے یہ خیال عملی صورت اختیار نہیں کر سکے گا۔یہی معاملہ کسی ایپلی کیشن سوفٹ ویئر کا ہے۔ آپ کے ذہن میں کسی ایپلی کیشن کا آئیڈیا ہے یا اپنی اپنی کسی ضرورت کے تحت کسی خاص ایپ کے طلب گار ہیں، لیکن سوفٹ ویئرڈیویلپنگ کی بابت معلومات یا کوڈنگ نالج نہ ہونے کے باعث یہ ایپ معرض وجود میں نہیں آسکتی۔لیکن آپ کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ آپ اپنے آئیڈیے کو کوڈنگ نالج کے بنا بھی ایپلی کیشن کی شکل دے سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر ایسی کئی سروسز موجود ہیں جو اس سلسلے میں آپ کی مددگار ثابت ہوں گی۔ اس طرح آپ کسی ایپلی کیشن ہی کے موجد نہیں بنیں گے، بل کہ یہ آپ کی کمائی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اس طرح نہ صرف افراد بل کہ ادارے بھی اپنے آئیڈیے پر مبنی یا اپنی مطلوبہ ایپلی کیشنز کو وجود میں لاسکتے ہیں۔اس سلسلے میں آپ کو سب سے پہلے آپ کو گوگل کی مدد سے سرچ کرنا ہوگا کہ جو ایپلی کیشن آپ پیش کرنے جا رہے ہیں وہ پہلے سے موجود تو نہیں؟ اس کے لیے گوگل سرچ کے ساتھ ایپل کے ایپ اسٹور اور گوگل پلے (اینڈرائڈ) میں بھی جھانکیے۔دوسرے اسٹیپ میں آپ کو اپنے ایپ آئیڈیے کو واضح کرنا ہوگا اور اس کی نوک پلک دور کرنا ہوگی۔ کسی سروس سے رابطہ کرنے سے پہلے اپنے آئیڈیا کی خامیاں دور کرلیں اور اسے پوری طرح ریفائن کرلیں۔ اگلے مرحلے میں آپ کو اپنے آئیڈیے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کسی ڈیویلپر کی ضرورت پڑے گی، جس کی صلاحیت آپ کے ایپ آئیڈیا سے مطابقت رکھتی ہو۔ انٹرنیٹ پر اس حوالے سے موجود آن لائن سروسز سے آپ کسی فری لانس ایپ ڈیویلپر کی خدمات معاوضے کے عوض حاصل کر سکتے ہیں۔مگرخیال رہے کہ ان ڈیویلپرز کا معاوضہ بعض اوقات اتنا ہوسکتا ہے جس کی آپ کی جیب اجازت نہ دیتی ہو، جو پانچ ہزار سے ڈیڑھ لاکھ امریکی ڈالر تک ہوسکتا ہے۔ چناں چہ اس طریقے سے ایپلی کیشن بنوانا افراد سے زیادہ اداروں کے لیے سودمند ہوگا۔فری لانس ایپ ڈیویلپرز کے معاوضوں کے پیش نظر آپ اپنے آئیڈیے پر مبنی ایپلی کیشن کی تیاری کے لیے ایک اور راستہ بھی اپنا سکتے ہیں۔ بعض آن لائن سروسز، جیسے www.applits.com، لوگوں کے پیش کردہ ایپ آئیڈیاز کو عملی شکل دینے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔آپ کا پیش کردہ آئیڈیا پسند آنے کی صورت میں متعلقہ کمپنی اسے عملی صورت دینے کے لیے ایپ ڈیویلپر کو بھاری معاوضہ دے کر مارکیٹ میں لانے کا خطرہ مول لیتی ہے۔ ظاہر ہے ایسا انسانی ہم دردی کے تحت نہیں کیا جاتا، بل کہ اس نوعیت کی کمپنیاں ان ایپلی کیشنز کی فروخت سے بھاری منافع حاصل کرتی ہیں اور اس منافع سے ایپ آئیڈیا دینے والے کو خاص تناسب سے حصہ دیا جاتا ہے۔اس طرح سرمایہ لگاکر یا ایک پیسہ بھی خرچ کیے بغیر آپ ایپلی کیشن بناسکتے ہیں اور اس سے منافع کما سکتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…