جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

خلائی جہاز پلوٹو کے قریب پہنچنے سے قبل خراب

datetime 6  جولائی  2015 |

نیویارک (نیوزڈیسک )امریکی خلائی ادارے ناسا کے سائنسدان پلوٹو کے قریب پہنچنے والے خلائی جہاز نیو ہورائزنز کے کمپیوٹر میں آنے والی خرابی دور کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔یہ خلائی جہاز آئندہ ہفتے پلوٹو کے قریب ترین پہنچے گا، اور اس کے بعد بیرونی نظامِ شمسی کا سفر جاری رکھے گا۔اسے 2006 میں خلا میں چھوڑا گیا تھا اور اس نے اب تک پانچ ارب کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کیا ہے۔کمپیوٹر میں آنے والی خرابی کی وجہ سے ناسا کا اس خلائی جہاز سے رابطہ عارضی طور پر ٹوٹا اور سائنسدان اب بھی اس سے سائنسی ڈیٹا وصول نہیں کر پا رہے ہیں۔سائنسدانوں کو کہنا ہے کہ اتنے طویل فاصلے پر موجود جہاز تک ایک سگنل بھیجنے میں بھی ساڑھے چار گھنٹے کا وقت لگتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مرمت کے کام میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔پلوٹو کے پاس پہنچنے پر پتہ چلا تھا کہ یہ بونا سیارہ بہت تیزی سے یعنی تقریبا 14 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے گھوم رہا ہے اور اس رفتار پر بہت دور رہتے ہوئے اس کے مدار میں داخلہ ناممکن ہے۔ایسے میں اس پر براہِ راست ہی نظر رکھی جا سکتی ہے نیو ہورائزنز پلوٹو کے سب سے قریب 14 جولائی کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 50 منٹ پر پہنچے گا اور اس وقت اس کی دوری پلوٹو کی سطح سے محض 13،695 کلومیٹر ہوگی۔یہ روبوٹک خلائی جہاز 2300 کلومیٹر قطر والے بونے سیارے کے تمام معلوم پانچ چاندوں کی تصاویر بھیج چکا ہے جن میں سے کیربیروس اور سٹکس نامی چاند پہلی بار کیمرے کی زد میں آئے ہیں۔اگر یہ مشن کامیابی سے مکمل ہو گیا تو انسان کے بھیجے ہوئے خلائی جہازوں کی مدد سے تمام نو کلاسیکی سیاروں کا جائزہ مکمل ہو جائے گا۔خیال رہے کہ برف سے ڈھے چٹانوں والے پلوٹو سے 2006 میں سیارے کا درجہ چھین لیا گیا تھا لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے ان کے عزم پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…