ویانا(نیوزڈیسک)فورینسک تحقیق کاروں نے موت کے وقت کا صحیح تعین کرنے کے لیے ایک نیا طریقہ دریافت کیا ہے۔اس طریقے سے موت کے دس دن بعد تک موت کے وقت کا پتہ چلایا جا سکے گا۔آسٹریا کی یونیورسٹی آف سالزبرگ کی ایک ٹیم نے وقت کے ساتھ مردہ سوروں کے پٹھوں کی پروٹین کی تحلیلی کے عمل کو جانچا ہے۔موجودہ رائج طریق کار کے مطابق موت سے 36گھنٹے تک موت کا پتہ چلایا جاتا ہے، اس لیے یہ طریقہ اس سلسلے میں نہایت اہم قدم ہے۔اس کامیابی کا اعلان پراگ میں تجرباتی حیاتیات کی سوسائٹی کی سالانہ کانفرنس میں کیا گیا۔اس تحقیق کی سربراہی کرنے والے ڈاکٹر سٹینبیکر نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ موت کے بعد جسم کے ماحول کے درجہ حرارت کے مطابق ٹھنڈا ہوجانے کے بعد موت کے وقت کا پتہ چلانے کے حوالے سے قابل اعتماد طریقوں کا بڑا فقدان پایا جاتا تھا۔یونیورسی آف سالزبرگ کے ڈاکٹر سٹینبیکر کہتے ہیں: درجہ حرارت کے تناسب سے ایسا کرنے میں عموما ایک یا دو دن لگتے ہیں۔ہم موت کے وقت کو جانچنے کے لیے نئے طریقے کی تلاش کر رہے ہیں۔۔۔ اور ہم نے دیکھا کہ پٹھوں کی پروٹین کے تحلیل ہونے کا عمل ایک قابل اعتماد عمل ہے۔اس تحقیقی ٹیم نے سوروں نے پٹھوں کی پروٹین کا معائنہ کیا کیونکہ ان کے پٹھے انسانی پٹھوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔ہمارے پٹھوں میں پروٹین بڑے بڑے ٹکڑوں کی صورت میں ہوتی ہے اور مرنے کے بعد یہ چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ڈاکٹر سٹینبیکر اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں: ایسا کچھ پروٹینوں کے ساتھ مخصوص وقت میں ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اجزا کے تحلیل کا یہ عمل بھی مخصوص وقت میں ہوتا ہے۔اس تحقیقی ٹیم نے سوروں نے پٹھوں کی پروٹین کا معائنہ کیا کیونکہ ان کے پٹھے انسانی پٹھوں سے مماثلت رکھتے ہیںچنانچہ اگر آپ جانتے ہیں کہ ان میں سے کون سے اجزا ایک نمونے میں موجود ہیں تو آپ موت کا وقت جان سکتے ہیں۔ڈاکٹر سٹینبیکر کہتے ہیں: اب ہمیں یہ جاننے کے لیے مزید نمونوں کی ضرورت ہے کہ جنس، وزن، درجہ حرارت اور نمی پٹھوں کے تحلیل ہونے کے عمل پر کتنا اثرانداز ہوتے ہیں۔ڈاکٹرسٹینبیکر اور ان کے ساتھی پرامید ہیں کہ تین سال کے اندر اس طریقے سے اہم فورینسک ثبوت حاصل ہونے میں مدد ملے گی۔یونیورسٹی آف لیسٹر کے فورینسک پیتھالوجیسٹ ڈاکٹر سٹوارٹ ہملٹن کا کہنا ہے کہ یہ ایک دلچسپ تحقیق تھی اور ایسی کوئی بھی تحقیق جس سے موت کا صحیح وقت جاننے کا راستہ ہموار ہو قابل قدر ہوتی ہے۔تاہم انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات میں بہت سارے غلط نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔بی بی سی نیوز کو انھوں نے بتایا: اس کے عدالت میں استعمال کی اجازت دینے کے لیے ابھی کافی وقت لگے گا۔بہت سارے قتلوں میں موت کے وقت کا پہلو انتہائی اہم ہوتا ہے اور ہمیں بطور فورینسک اور قانونی ماہر کسی کو مجرم ثابت کرنے کے لے اس کا استعمال شروع کرنے سے پہلے اس حوالے سے بہت زیادہ پراعتماد ہونے کی ضرورت ہے کہ اس میں غلط شناخت کے پہلو شامل نہ ہوں۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
دکانوں اور مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری، اب کتنے بجے بند ہوں گی؟
-
آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)
-
اطالوی وزیراعظم کا اپنی نازیبا تصویر پر ردعمل
-
سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہیں دینے کا نوٹیفکیشن جاری
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک بھی جاری
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی
-
گاڑیوں کی خریداری۔۔! نیا حکم نامہ جاری
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی
-
پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کو 3 ہزار روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ
-
اسلام آباد میں 30 سالہ فرخ چوہدری کے اغواء اور ہلاکت کا معمہ حل
-
زلزلے کے جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے
-
قیامت خیز گرمی سے 9 افراد جاں بحق، 2 روز میں اموات 19 ہوگئیں



















































