کراچی(نیوزڈیسک)دو نئے مطالعاتی جائزوں کے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ انسان اپنی سرگرمیوں کے نتیجے میں اپنی اس دھرتی کے اندر موجود پانی کے ایک تہائی ذخائر کو تیز رفتاری کے ساتھ سطح زمین پر لا رہا ہے۔ زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ انسان کو یہ پتہ ہی نہیں کہ زمین کے اندر موجود ذخائر میں ابھی اور کتنا پانی باقی بچا ہے۔ یہ حقائق سائنسدانوں نے ان مطالعاتی جائزوں میں بتائے ہیں جنہیں واٹر ریسورسز ریسرچ نامی جریدے کے تحت انٹرنیٹ پر جاری کر دیا گیا ہے۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق ایشیا اور بحرالکاہل کا خطہ ایک اہم اقتصادی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے تاہم تشویشناک بات یہ ہے کہ اِس خطے کے کسی بھی ترقی پذیر ملک کے پاس پانی کی محفوظ فراہمی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا اِروائن سے وابستہ پروفیسر اور ان جائزوں کی ترتیب کے حوالے سے مرکزی اہمیت کے حامل محقق جے فیمی گلیئیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے زیرِ زمین آبی ذخائر میں موجود پانی کی مقدار کو ماپنے کےلئے اس وقت دستیاب فزیکل اور کیمیکل آلات بالکل ناکافی ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ جتنی تیزی سے انسان دنیا کے زیرِ زمین آبی ذخائر کو استعمال میں لا رہا ہے، ان ذخائر میں موجود باقی ماندہ پانی کی مقدار کو جانچنے کےلئے ایک مربوط عالمگیر کوشش درکار ہے۔ سائنسدانوں نے سطحِ زمین کے نیچے موجود آبی ذخائر میں کمی کو ناسا کے خصوصی مصنوعی سیاروں کی مدد سے ماپا ہے۔ پہلے مطالعاتی جائزے کے لیے سائنسدانوں نے 2003اور 2013کے درمیان زمین کے پانی کے سینتیس سب سے بڑے زیرِ زمین ذخائر کا مشاہدہ کیا۔ان میں سے آٹھ ذخائر کے حوالے سے سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے کہ ان پر حد سے زیادہ دباو ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ان ذخائر میں موجود پانی تیزی سے باہر نکالا جا رہا ہے اور ایسا کوئی قدرتی طریقہ موجود نہیں ہے کہ یہ ذخائر دوبارہ پانی سے بھر جائیں۔ پانچ دیگر آبی ذخائر کو انتہائی زیادہ دباو کے شکار قرار دیا گیا۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے زیرِ زمین آبی ذخائر کی حالت اور زیادہ خراب ہو جائے گی۔سب سے زیادہ دباو کے شکار زیرِ زمین آبی ذخائر دنیا کے خشک ترین مقامات پر ہیں، جہاں ان ذخائر کے پھر سے بھر جانے کے لیے کوئی قدرتی ذریعہ موجود نہیں ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق عرب دنیا میں واقع زیرِ زمین پانی کا ذخیرہ (عریبین ایکوائفیر سسٹم)جو ساٹھ ملین سے زیادہ انسانوں کو پانی فراہم کرتا ہے، دنیا میں سب سے زیادہ دباو کا شکار آبی ذخیرہ ہے۔دوسرا آبی ذخیرہ جسے دنیا بھر میں سب سے زیادہ دباﺅ کا سامنا ہے، وہ ہے شمال مغربی بھارت اور پاکستان کا انڈس بیسن ایکوائفر۔ تیسرے نمبر پر مرزوک جادو بیسن ہے، جس سے شمالی افریقہ میں بسنے والے انسان استفادہ کرتے ہیں
بھارت اور پاکستان کے زیرزمین آبی ذخائر،سائنسدانوں کی رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجادی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
وزیرپیٹرولیم کاپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں بارے اہم اعلان
-
ایرانی ریال خریدنے والے خوش، کرنسی کی قدر میں بڑا اضافہ
-
نوجوانوں میں کینسر کے بڑھتے کیسز کی بڑی وجہ سامنے آگئی، نئی تحقیق
-
بالی ووڈ اداکارہ کا اکشے کمار سے متعلق چونکا دینے والا انکشاف
-
سونا ایک بار پھر مہنگا ہوگیا
-
موٹرویز نیٹ ورک میں اہم پیش رفت، ایم 13 موٹروے سے لاہور اسلام آباد کے سفر میں تقریباً 100 کلومیٹر ک...
-
برطانیہ جانے کے خواہشمندوں کےلئے بڑی خبر، محفوظ اور آسان قانونی راستوں کا اعلان
-
پاکستان میں یکم جولائی سے مون سون کا آغاز،محکمہ موسمیات نے اہم پیشگوئی کر دی
-
سرگودھا: بااثر افراد کی جانب سے مبینہ زیادتی کرنے کی شکایت پر ملزمان نے بچے کو زندہ دفن کر دیا
-
اسلام آباد ، لاہور اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلےکے شدید جھٹکے
-
ثانیہ اشفاق کے عماد وسیم پر سنگین الزامات، عماد کا سابقہ اہلیہ کو انتباہ
-
مری ایکسپریس وے پر مسافر وین مکمل جل گئی
-
حکومت نے ڈیزل اور پیٹرول پر لیوی میں اضافہ کردیا
-
قانونی نوٹس کے بعد مذہبی سکالر ناصر مدنی کی مومنہ اقبال سے معافی



















































