جمعہ‬‮ ، 26 جون‬‮ 2026 

زمین پر مخلوقات کے ناپید ہونے کا نیا دور شروع

datetime 20  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )زمین کے ناپید ہونے کے خطرے میں موسمیات کی تبدیلی، آلودگی اور جنگلوں کی روزبروز کمی اہم وجوہات میں شامل ہیں
تین امریکی یونیورسٹیوں کی مشترکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کر ارض ناپید ہونے کے اپنے نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور انسان اس کے پہلے متاثرین میں ہو سکتا ہے۔
سٹینفورڈ، پرنسٹن اور برکلے یونیورسٹیوں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں ریڑھ کی ہڈی والے جاندار 114 گنا زیادہ تیزی کے ساتھ ختم ہو رہے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ سال ڈیوک یونیورسٹی نے جو رپورٹ شائع کی تھی تازہ رپورٹ اس کی تصدیق کرتی نظر آتی ہے۔
نئی تحقیقی رپورٹ کے ایک مصنف نے بتایا: ہم اب وسیع پیمانے پر ناپید ہونے والے چھٹے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔
اس طرح کا آخری مرحلہ ساڑھے چھ کروڑ سال قبل پیش آیا تھا جس میں ڈائنوسار ختم ہو گئے تھے اور عین ممکن ہے کہ ایک بڑے شہابیے کے زمین سے ٹکرانے کے سبب ایسا ہواتھا۔
نئی تحقیق کے سربراہ مصنف جیررڈو سیبیلوز نے کہا: اگر ایسا جاری رہا تو زندگی کو پھر سے بحال ہونے میں کروڑوں سال لگ جائیں گے اور ہماری اپنی نسل کے جلد ہی ناپید ہونے کا خطرہ ہے۔
تحقیق میں کہا گیا ہے شہد کی مکھیا تین انسانی نسلوں کے دوران پولینیشن یا زیرہ پوشی کی صلاحیت کھو دیں گی
سائنسدانوں نے فوسل یا متحجر جانداروں کی جانچ سے ریڑھ کی ہڈی والے جانداروں کے ناپید ہونے کی شرح کا تاریخی طور پر تجزیہ کیا ہے۔
انھوں نے یہ پایا کہ ناپید ہونے کی شرح اس وقت سے 100 گنا سے بھی زیادہ ہے جب بڑے پیمانے پر ناپید ہونے کا مرحلہ شروع نہیں ہواتھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 1900 سے اب تک 400 سے زیادہ ریڑھ کی ہڈی والے جانداروں کی اقسام نا پید ہو چکی ہیں۔
یہ مطالعہ سائنس ایڈوانسز نامی جرنل میں شائع ہوا ہے اور انھوں نے اس کی وجوہات میں تبدیلئی آب و ہوا، آلودگی اور جنگلوں میں کمی کو شمار کیا ہے۔
ایکو سسٹم جس طرح برباد ہو رہا ہے اگر ایسا ہی جاری رہا تو رپورٹ کے مطابق شہد کی مکھیاں تین انسانی نسل کی مدت میں اپنی زیرہ پوشی کی قوت کھو دیں گی۔
تحقیق کے مطابق اس سے قبل وسیع پیمانے پر ناپید ہونے کا واقعہ کسی بڑے شہابیے کے زمین سے ٹکرانے کے سبب ہوا تھا
سٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر پال ارلچ نے کہا: اس طرح کی اقسام کی دنیا بھر میں مثالیں ملتی ہیں جو واقعتا مردہ ہیں مگر ابھی تک چلتی پھرتی نظر آتی ہیں۔
فطرت کے تحفظ کی بین الاقوامی یونین آئی یو سی این کے مطابق ہر سال تقریبا 50 اقسام کے جاندار ناپید ہونے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ بحر و بر دونوں جگہ رہنے والے جانداروں میں تقریبا 41 فی صد کو ناپیدی کا خطرہ ہے جبکہ ممالیہ (دودھ پلانے والے جانداروں) میں 25 فی صد ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
آئی یو سی این کے مطابق لیمور (ایک قسم کا بندر) کے ناپید ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔

ناپید ہونے والے جانداروں میں لیمور کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے
گذشتہ سال ڈیوک یونیورسٹی کیرولینا کے ماہر حیاتیات سٹوارٹ پم نے بھی متنبہ کیا تھا کہ انسان وسیع پیمانے پر ناپید ہونے کے چھٹے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔
انھوں نے اپنی رپورٹ میں ناپید ہونے کے عمل کو 114 گنا تیزی کے بجائے ہزار گنا بتایا تھا۔
نئی تحقیق کے مصنفوں کا کہنا ہے کہ ابھی بھی حیاتیاتی تنوع میں ڈرمائی رفتار سے آنے والی کمی کو شدید تحفظاتی پروگرام کے ذریعے روکا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے بہت تیزی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…