جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

امریکہ : ایک اور خلائی جہاز پراسرار مشن پر بھیج دیا

datetime 23  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) امریکی ایئرفورس نے ایک اور خلائی جہاز ایکس تھری سیون بی پراسرار خلائی مشن پر بھیج دیا ہے۔ جہازکو خلا میں روانہ کرنے کے اغراض و مقاصد سے عوام لاعلم ہیں نیز اس کی واپسی کے حوالے سے بھی کچھ اطلاعات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ اس ساخت کے جہاز خلا میں دو برس تک رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکی ایئرفورس اور ناسا کی جانب سے اس جہاز کو فضا میں چھوڑنے کے مقاصد چھپانے کے سبب طرح طرح کی چہ میگوئیاں ہورہی ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ خلائی بمبار طیارہ ہے جبکہ کچھ کے خیال میں دشمن ممالک کے جاسوسی پر معمور خلائی جہازوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ خلائی جہاز خود کار نظام کے تحت چلتا ہے اور تاحال امریکہ اسے تین بار خلا میں پراسرار مقاصد کیلئے بھیج چکا ہے۔ ساخت کے اعتبار سے یہ ناسا کی خلائی شٹل کے جیسا دکھائی دیتا ہے تاہم یہ حجم میں خلائی شٹل سے بہت چھوٹا اور صرف29فٹ طویل ہے۔ لانچنگ کے وقت اس کا وزن گیارہ ہزار پونڈ تھا۔ اسے راکٹ کی مدد سے مدار میں داخل کیا جاتا ہے تاہم یہ واپسی پر خلائی شٹل کے انداز میں گلائڈنگ کرتے ہوئے نیچے آتا ہے۔ اس جہاز میں پروپلڑن سسٹم نصب ہوتا ہے جو کہ سورج سے فوٹونز لیتا ہے اور اس کے سہارے کام کرتا ہے۔ امریکی ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ آئندہ برس کے وسط تک شائد زمین پر واپس آئے تاہم اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ گزشتہ ماہ امریکی وزارت دفاع نے اس حوالے سے سپیس ڈاٹ کام کو ایک انٹرویو دیا تھا جس میں انہوں نے یہ اشارہ دیا تھا کہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کچھ چیزیں خلا میں کتنی دیر اپنا وجود برقرا رکھ سکتی ہیں اور اس مقصد کیلئے ایکس تھری سیون بی کو ایک مشن پر بھیجا جائے گا۔ وزارت نے ان چیزوں کی وضاحت نہیں کی تھی۔ اسی وجہ سے گردش کرتی افواہوں کے مطابق بعض سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ عین ممکن ہے کہ یہ خلائی جہاز نہ ہو بلکہ ایک جاسوسی پر معمور طیارہ ہو جسے امریکہ نے خلائی شٹل کی شکل دے رکھی ہو۔ فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس کے سیکریسی ایکسپرٹ سٹیون آفٹر گڈ کہتے ہیں کہ یہ ایک بمبار طیارہ بھی ہوسکتی ہے۔ کچھ کے خیال میں یہ خلا میں پہلے سے موجود سیٹلائٹس کو تباہ کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے تاہم اگر ایسا ہوگا تو یہ امر کسی سے چھپا نہ رہے گا۔ اس کے علاوہ ایک نظریہ یہ بھی موجود ہے کہ دراصل یہ ایک جاسوسی سیٹلائٹ رکھنے والا طیارہ ہے جو کہ سیٹلائٹ کے ذریعے دیگر جاسوسی پر معمور سیٹلائٹس کی نگرانی کرے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…