جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

مردہ جسم کو زندہ کرنے کا تجربہ کامیاب

datetime 22  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )جب آپ جسم کا درجہ حرارت 10 سینٹی گریڈ ہوجائے، کوئی دماغی سرگرمی، دل کی دھڑکن، خون کی گردش غرض سب کچھ تھم جائے اور ہر ایک یہ مان لے کہ آپ مرچکے ہیں مگر ہم پھر بھی آپ کو زندگی کی جانب واپس لا سکتے ہیں”۔یہ وہ دعویٰ ہے جو ایری زونا یونیورسٹی کے پروفیسر پیٹر رہیی نے کیا۔اور یہ ایسا مبالغہ آرائی پر بھی مشتمل نہیں پروفیسر پیٹر نے میری لینڈ یونیورسٹی کے پروفیسر سیموئل ٹیشرمین کے ساتھ مل کر یہ ثابت کیا ہے کہ جسمانی افعال کو ایک وقت میں کئی گھنٹوں تک معطل یا بند رکھا جاسکتا ہے۔یہ وہ طریقہ کار ہے جس کی آزمائش ابھی تک جانوروں پر ہی ہوئی اور اس میں زخمی ہوجانے والے جسم سے خون کو نکال کر اس ٹھنڈے کھارے پانی سے تبدیل کردیا جاتا ہے جبکہ خون کو عام جسمانی درجہ حرارت سے 20 سینٹی گریڈ کم درجہ حرارت میں ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔ایک بار جب زخم ٹھیک ہوجاتے ہیں تو خون کو ایک بار پھر رگوں کے ذریعے داخل کیا جاتا ہے اور جسم ایک بار پھر آہستہ آہستہ گرم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔پروفیسر پیٹر بتاتے ہیں ” جیسے ہی خون کو دوبارہ چڑھایا جاتا ہے اس وقت جسم گلابی ہونا شروع ہوجاتا ہے “۔ان کے بقول ایک خاص درجہ حرارت پر پہنچنے کے بعد دل خود بخود جسم میں زندگی دوڑا دیتا ہے ” یہ بہت حیرت انگیز ہے کہ تیس سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر دل دوبارہ دھڑکنے لگتا ہے جیسے وہ کبھی رکا ہی نہیں تھا اور خود ہی کام کرنے لگتا ہے”۔حیرت انگیز طور پر جن جانوروں پر یہ تجربات کیے گئے ان میں دوبارہ اٹھنے کے بعد بہت کم منفی اثرات سامنے آئے۔پروفیسر سیموئل کا کہنا ہے کہ عوام کو معلوم ہونا چاہئے کہ کوئی سائنس فکشن نہیں بلکہ تجربات کے بعد سامنے آنے والی حقیقت ہے جسے ایک منظم انداز سے کیا گیا ہے۔پروفیسر پیڑ تو اس سے بھی آگے بڑھ کر کہتے ہیں کہ جسمانی افعال کو مستقبل قریب میں طویل عرصے تک معطل کرنے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا کیا جاسکتا ” ابھی تو ہم اپنے تجربات کے ابتدائی مرحلے میں ہے”۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…