جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ایڈوانسڈ لیگو، کشش ثقل کی لہروں کو تلاش کرے گا

datetime 21  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک )دورِ حاضر میں فزکس کے عظیم ترین تجربات میں سے ایک کا آغاز ہونے والا ہے، جس کے تحت کششِ ثقل کی لہروں کا کھوج لگایا جائے گا۔سائنس دانوں نے امریکہ میں ایک مخصوص تقریب میں ایڈانسڈ لیگو تجربہ گاہوں کا افتتاح کیا۔ یہ دو الگ الگ تجربہ گاہیں کشش ِ ثقل کی لہروں کو تلاش کریں گی۔سائنس دانوں کے مطابق یہ لہریں سپیس ٹائم میں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب کائنات میں بعض شدید ترین واقعات رونما ہوتے ہیں، مثال کے طور پر دو بلیک ہولز کا آپس میں تصادم یا پھر بڑے ستاروں کا دھماکے سے پھٹ جانا۔ان لہروں کی موجودگی کی تصدیق سے علمِ فلکیات میں انقلاب برپا ہو جائے گا۔ایڈانسڈ لیگو کے فعال ہونے کے بعد آسمان پر ہونے والے غیر معمولی مظاہر کا مشاہدہ کرنے کے لیے روایتی روشنی کی دوربینوں کا سہارا نہیں لینا پڑےگا۔امریکی نیشنل سائنس فاو¿نڈیشن کے ڈائریکٹر فرانس کورڈوا کا کہنا ہے کہ ’ایڈوانس لیگو کائنات کی حیرت انگیز پہیلیوں کو سمجھنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’اس کی مدد سے سائنس دانوں کو کشش ثقل کی لہروں کو ڈھونڈنے کے لیے حساس ترین آلات میسر آسکتے ہیں۔ ان لہروں کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ ان میں ان کے آغاز اور کشش ثقل کی قسم کے بارے میں وہ معلومات حاصل ہوتی ہیں، جو عام فلکیاتی آلات سے حاصل نہیں ہو سکتیں۔‘ایڈوانس لیگو کو 15 ممالک کے ماہرین کی مدد سے بنایا گیا ہے جن میں خاص طور پر جرمنی، برطانیہ اور آسٹریلیا نے زیادہ اہم کردار ادار کیا ہے۔اس تقریب کے بعد اس تجربے کے تحت رواں سال کے آخر میں ابتدائی تحقیق کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
محققوں نے اس تجربہ گاہ پر آٹھ سال کام کیا ہے اور اس پر 20 کروڑ ڈالر سے زائد رقم خرچ ہوئی ہے۔ان لہروں کی موجودگی کی تصدیق ہونے سے علمِ فلکیات میں انقلاب برپا ہو جائے گا
لیگو یعنی Laser Interferometer Gravitational-wave Observatories ہینڈ فورڈ اور اس سے منسلک لیبارٹری انھی اصولوں پر کام کرتی ہیں۔
تجربہ گاہوں میں طاقتور لیزر بیمز کو دو الگ الگ حصوں میں تقسیم کر کے انھیں الگ الگ راستوں سے انگریزی حرف ایل کی شکل کی دو لمبی سرنگوں میں بھیجا جائے گا جن کے اندر خلا (ویکیوم) ہوتا ہے۔
یہ دو راستے پھر شیشے کے ذریعے واپس نقطہ آغاز کی جانب پلٹ جاتے ہیں۔اگر اس دوران کسی دور دراز کہکشاں میں پیدا ہونے والی کشش ثقل کی لہریں تجربہ گاہ میں سے گزریں تو تجربہ گاہ کے حساس آلات میں اس کے شواہد نظر آ جائیں گے۔تاہم چونکہ کششِ ثقل کی لہریں اس قدر کمزور ہوتی ہیں کہ بہت بڑے فلکیاتی مظاہر ہی اتنی بڑی لہریں پیدا کر سکیں گے جنھیں آلات کی مدد سے جانچا جا سکے۔
جب لیگو بنا تھا تو وہ اس وقت لہروں میں صرف اس قدر تبدیلیاں ریکارڈ کر سکتا تھا جتنا ایک پروٹان کی چوڑائی کا ایک ہزاروں حصہ ہوتا ہے۔ تاہم گذشتہ چند سالوں میں کی جانے والی تبدیلیوں سے ایڈوانس لیگو مزید دس گنا حساس ہو جائے گا۔پروفیسر سٹرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’2020 تک اس کو مزید بہتر بنانے سے اس میں تین گنا مزید بہتری آ سکے گی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ان آلات کی زد دو کروڑ نوری سال تک ہے۔ یہ اتنا بڑا فاصلہ ہے جس کے اندر بہت سے فلکیاتی مظاہر پیش آتے رہتے ہیں، جنھیں یہ آلات جانچ سکیں گے۔
تاہم اس تمام ڈیٹا کو پرکھنے کے لیے بہت طاقت ور کمپیوٹر بھی درکار ہو گا، کیونکہ ایٹم کے اندر معمولی سی حرکت بھی ریکارڈ ہو جائے گی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…