جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

آلووں کی پیداوارنمکین اورسمندری پانی سے بھی ممکن

datetime 29  اپریل‬‮  2015 |

گاجر، سٹرابیری، پیاز اورسلاد وغیرہ۔ ساٹھ سالہ فان رائسل بیرخا نے ’نمکین آلو فارم‘ کا آغاز دس برس پہلے کیا تھا اور انہیں ایمسٹر ڈیم یونیورسٹی کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کی خوراک اور زراعت کی تنظیم (ایف اے او) کے مطابق دنیا بھر میں آلووں کی پانچ ہزار سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں اور یہ دنیا کی چوتھی مرغوب ترین غذا بھی ہے۔تحیقق کی دنیا میں زیادہ تر توجہ فصلوں کی پیداوار بہتر بنانے پر مرکوز ہے لیکن ہالینڈ کی یہ ٹیم ایسی زمین پر فصلیں اگانے کے لیے کام کر رہی ہے،جسے ناقابل کاشت سمجھا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پانی، ماحولیات اور صحت کے مطابق دنیا کے 75 ممالک میں روزانہ پانچ ہزار ایکڑ رقبہ نمکین پانی کی وجہ سے ناقابل کاشت ہوتا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان کے دریائے سندھ، چین کے دریائے زرد اور شام و عراق کے دریائے فرات کے مضافات میں ناکارہ زمین کو قابل کاشت بنانے کے طریقے انتہائی مہنگے ہیں۔ مارک فان رائسل بیرخا کے مطابق ان کی ٹیم نے ہزاروں آلو پاکستان بھیجے تھے، جہاں ان کا تجربہ ”کامیاب“ رہا ہے جبکہ آئندہ برس زیادہ پودے بھیجے جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ آلووں کی یہ قسم متاثرہ علاقوں میں ہزاروں کسانوں کی زندگیاں تبدیل کر دے گی۔یورپ میں آلووں کی پیداور کا آغاز سولہویں صدی میں اس وقت ہوا تھا، جب یہ لاطینی امریکی ملک پیرو سے درآمد کیے گئے تھے۔ یورپ میں یہ اس وجہ سے بھی مشہور ہوئے کہ یہ سستے تھے اور ان کی پیداوار بھی مشکل نہ تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ مغربی باشندوں کا اس فصل پر انحصار اس قدر بڑھ چکا تھا کہ انیسویں صدی میں آئرلینڈ میں آلوو¿ں کے قحط کی وجہ سے حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔محقیقین کے مطابق نمکین ماحول میں پیدا ہونے والے آلو زرخیز زمین پر اگنے والے آلووں کی نسبت زیادہ میٹھے ہوتے ہیں کیونکہ یہ پودوں کو نمکیں ماحول کے خلاف مزاحمت کے لیے زیادہ شوگر پیدا کرتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جذب کیا گیا نمک پتوں اور تنے تک محدود رہتا ہے جبکہ آلو اس سے محفوظ رہتے ہیں۔عام آلووں کی نسبت ان آلوو¿ں کی قیمت بھی کم ہے جبکہ عام حالات میں ان کی پیداوار فی ہیکٹر تقریبا تیس ہزار کلو جبکہ سازگار حالات میں ساٹھ ہزار کلو رہتی ہے۔ مارک فان رائسل بیرخا کے مطابق بنگلہ دیش، مصر اور بھارت نے بھی سالٹ پروف فصلوں کے لیے ان کی مدد مانگی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…