گیارہ ہنر جو صرف بھارتیوں کے پاس ہیں

  جمعہ‬‮ 27 مارچ‬‮ 2015  |  16:13

لاہور (نیوز ڈیسک) اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت نہایت تیزی سے ایشیا کی سب سے بڑی قوت بنتا جارہا ہے۔ عالمی نقشے پر بھارتی پوزیشن بدل چکی ہے لیکن اس کے باوجود بھی بھارتی قوم خود کو بدلنے کو تیار نہیں ہے اور ان کی ایسی بہت سی عادتیں ایسی بھی ہیں جنہیں عادت کے بجائے حماقت کہنا زیادہ جچتا ہے۔ ان حماقتوں کو بار بار دہراتے جانے میں بھی بھارتیوں کو کوئی عار محسوس نہیں ہوتا ہے۔ وہ حماقتیں مندرجہ ذیل ہیں۔ بھارتی نوجوان تعلیم کے میدان میں بہت آگے ہیں لیکن دوران تعلیم ان کیلئے یہ فیصلہ


کرنا بے حد مشکل ہوتا ہے کہ وہ اپنا مستقبل کس شعبے میں بنائیں ،یہی وجہ ہے کہ پہلے وہ میٹرک سائنس کے مضامین کے ساتھ کرتے ہیں، بعد ازاں سپلی کے امتحان کے ذریعے اپنی فیلڈ تبدیل کرتے ہیں۔ کالج جاتے ہیں تو ایف ایس سی کے دو سالوں میں بھی ان کا دماغ اسی کشمکش میں رہتا ہے۔ انجینیئرنگ کالج میں داخلے کے بعد یہ دماغی خلفشار کچھ کم تو ہوتا ہے لیکن اتنا ہرگز نہیں کہ وہ انہیں انجینیئرنگ کے بعد ایم بی اے کرنے سے روک لے۔ اور پھر یہ بطور ہیئر سٹائلسٹ اپنی عملی زندگی کا آغاز کردیتے ہیں۔ راہ چلتے جہاں کہیں بھی انہیں تھوڑا سا بھی کچرا پڑا دکھائی دے جائے، یہ ادھر ہی اپنا کوڑا بھی خوشی خوشی پھینک دیتے ہیں۔ کچرا پھینکنے کیلئے اگر کوڑے کے بجائے کوڑے دان کی تلاش کی جائے تو ایسے میں ملک کو صاف کرنا کتنا آسان ہوسکتا ہے، اس بارے میں کوئی نہیں سوچتا۔صحیح عمر میں شادی ہوجانا ،آج کل کے بھارتی لڑکے لڑکیوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کیونکہ اگر مناسب عمر میں شادی نہ ہوئی تو شباب ڈھل جائے گا اور پھر اچھے رشتے ملنا مشکل ہوجائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ شادی کیلئے بہترین عمر کوئی نہیں ہے، جب اور جس وقت بھی آپ ذمہ داریاں اٹھانے کے قابل سمجھیں، شادی کی جاسکتی ہے۔بھارت میں لفٹ متعارف ہوئے ایک صدی سے زیادہ ہوا لیکن بھارتیوں کو آج بھی لفٹ میں سفر کرنا نہ آیا ہے۔یہ لفٹ میں آج بھی سوار ہونے پر ایسے بوکھلا کے ایک ساتھ دو ، دو تین، تین بٹنز دباتے ہیں کہ لفٹ خود بخود سمجھ جاتی ہے کہ اس کا مسافر کوئی اور نہیں بلکہ روایتی بھارتی ہے۔پڑوسیوں کی نقالی بھی بھارت پر فرض ہے۔ جی ہاں! آئندہ بھارتی حکومت پر نقل کا الزام مت لگائیے گا کیونکہ یہ ان کا قومی مسئلہ ہے۔ پڑوسی نے گاڑی خریدی تو اس سے بڑی گاڑی خریدیں گے اور اگر پڑوسی نے فریج خریدا تو ہم فریج کے ساتھ ساتھ اے سی بھی خریدیں گے، عام بھارتی سوچ ہے۔غیر ملکی بھارتیوں کے لئے آج بھی اسی قدر اجنبی ہیں جس قدر کہ ٹی وی ریڈیو کی ایجاد سے پہلے تھے۔ انہیں دیکھتے ہی بھارتی اپنا اصل لہجہ بھول کے ایسا لہجہ اپنا کے انگریزی بولنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ خود انگریزوں کیلئے بھی نیا ہوتا ہے۔بھارتی دیسی کپڑوں اور اشیا کی خریداری کیلئے بھی انٹرنیشنل برانڈز ڈھونڈتے ہیں کیونکہ انہیں پہننے پر وہ خود کو زیادہ ”کول “ سمجھتے ہیں۔انٹرنیٹ پر دکھائی دینے والے کسی بھی رجحان کا ذکر ہو، بھارتی اسے اپنانے میں پیش پیش دکھائی دیتے ہیں۔ آئس بکٹ چیلنج کا مقصد انہیں معلوم نہ تھا، لیکن اس چیلنج کو قبول کرنے والوں میں شائد ہی کوئی بھارتی پیچھے رہا ہو، اسی طرح نو شیو منتھ میں بھارت میں اس قدر داڑھی والے افراد دکھائی دیئے جتنا کہ خود سعودی عرب میں بھی نہیں دکھتے ہیں۔بھارتی اکثریت کے مذہب یعنی کہ ہندومت میں گوشت کی ممانعت ہے، یہ عام طور پرتو بکرے کی چانپیں اور گائے کی گردن کا گوشت شوق سے کھالیتے ہیں لیکن مذہبی تہواروں کے موقع پر ان کے اندر کا ہندو پوری طرح جاگ اٹھتا ہے اور یہ گوشت کھانے سے انکار کردیتے ہیں۔ پیٹ بھرنے پر یہ ہندو دوبارہ سال بھر کیلئے خواب خرگوش کے مزے لینے سوجاتا ہے۔واٹس ایپ اور فیس بک کے سٹیٹس بدلنے میں بھی بھارتیوں کا کوئی ثانی نہیں۔ حال ہی میں پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد بھارتی قوم کی اکثریت کے فرنچ زبان میں سٹیٹس دیکھے گئے۔ ان سٹیٹس کا مطلب کیا تھا، شائد یہ خود انہیں اپ لوڈ کرنے والوں کو بھی پتہ نہ تھا۔یہاں سگنل کھلنے کی منتظر گاڑیاں سگنل کی بتی نہیں بلکہ اگلی گاڑی کی بتی پر نگاہ رکھتی ہیں، جہاں وہ دوڑی ، ساتھ ہی یہ بھی دوڑ پڑتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کسی ایک فرد کے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں میلوں دور ٹریفک جام ہونے سے بننے والی قطاریں عام ہیں۔