اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

حکومت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب، 21 جولائی تک مارچ موخر

datetime 16  جولائی  2026 |

اسلام آباد /راولا کوٹ(این این آئی)حکومت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے جس کے بعد کالعدم ایکشن کمیٹی نے مظفرآباد کی جانب مارچ 21 جولائی تک موخر کردیا۔

رہنما کالعدم ایکشن کمیٹ یکے مطابق مطالبات تسلیم نہ کئے تو 22 جولائی کو مارچ کا آغاز ہوگا،حکومت کی جانب سے کالعدم ایکشن کمیٹی کو مطالبات کے حل کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔اس سے قبل جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اپیل کی تھی کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی فی الحال کسی بھی اگلے اقدام سے گریز کرے اور چند روز کی مہلت دے تاکہ کوئی پیش رفت ہو سکے۔کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے نام پیغام میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ راولا کوٹ اور گرد و نواح میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی ایک ماہ سے اپنے مطالبات کے لیے دھرنا دیے ہوئے ہے اور حکومت سے مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ اس دوران کچھ ناخوشگوار واقعات رونما ہوئے، جن سے ماحول میں تلخی پیدا ہوئی، مگر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنے اور مطالبات کا پارلیمان میں تذکرہ ہوا۔امیرِ جے یو آئی نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے مجھے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے کہا جس پر ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جمعیت علما اسلام آزادجموں و کشمیر کے مولانا سعید یوسف خان اور راولاکوٹ کی قبائلی شخصیت کامران اعظم خان میرے ساتھ رابطے میں رہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور کالعدم ایکشن کمیٹی سے بات چیت پر اگلے اقدامات کے اعلان سے گریز کیا، میری گفتگو بلاول بھٹو زرداری سے ہوئی، وہ مظفر آباد میں ہیں۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ بلاول بھٹو بھی مسئلے کے حل کے لیے مصروف ہیں، انہیں حکومت سے بات کیلئے کچھ مہلت چاہیے۔

انہوںنے کہاکہ بلاول بھٹو سے ہفتہ، 10 روز پہلے ملاقات ہوئی تھی، اسی تسلسل میں مزید رابطہ ہوا، بلاول چاہتے ہیں کہ خون خرابہ اور فسادات نہ ہوں، بات چیت سے مسئلے کا کوئی حل نکال سکیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مثبت پیش رفت پاکستانی و کشمیری عوام کے درمیان باہمی اعتماد کے لیے از حد ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ میں امید رکھوں گا کہ میری اپیل پر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی مثبت جواب دے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…