اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کے گندم کی ریکارڈ پیداوار کے دعوے حقائق کے منافی نکلے

datetime 2  مئی‬‮  2023 |

لاہور (این این آئی)حکومت کے گندم کی ریکارڈ پیداوار کے دعوے حقائق کے منافی نکلے، مقررہ ہدف سے لاکھوں ٹن کم پیداوار ہونے کا انکشاف۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے رواں سال گندم کی پیدوار میں 10 سال کا ریکارڈ ٹوٹ جانے کا دعوٰی حقائق کے منافی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت گندم کی ریکارڈ پیدوار کا دعوٰی کر رہی ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ حکومت گندم کی پیدوار کا اپنا ہی ہدف حاصل نہ کر سکی۔

حکومت کی جانب سے رواں سال گندم کا 2کروڑ 84 لاکھ میٹرک ٹن کا پیداواری ہدف مقرر کیاگیاہے، جبکہ حکومت یہ دعوٰی کررہی ہے کہ اب تک ملک میں گندم کی 2 کروڑ 75 لاکھ میٹرک ٹن ریکارڈ پیداوارہوئی۔ یوں حکومت کی طرف سے جاری اپنے ہی اعداد وشمار کے مطابق نو لاکھ ٹن گندم کی پیداوار کم ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کسانوں کی متبادل فصلوں کی جانب بھی منتقل ہوئے ہیں، بارشوں کی وجہ سے تقریبا دس سے پندرہ فیصد گندم کی کاشت کا رقبہ بھی کم ہوا ہے جبکہ صوبہ سندھ کے بعض علاقوں میں بھی سیلاب کی وجہ سے گندم کی بوائی نہ ہوسکی تھی۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ حکومت گندم کی کمی کو پورا کرنے کیلئے اس سال پہلے ہی 2 ارب ڈالرز سے زائد گندم امپورٹ کر چکی۔ یہاں یہ واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بارشوں اور سیلاب کے باوجود گندم کی ریکارڈ پیداوار کا دعویٰ کیا ہے۔ گزشتہ روز سرکاری سطح پر گندم کی خریداری پر جائزہ اجلاس میں وزیر اعظم نے ملک میں گندم کی 2 کروڑ 75 لاکھ میٹرک ٹن ریکارڈ پیداوار پر اظہار تشکر کیا، اس موقع پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10 سالوں کی نسبت اس سال گندم کی سب سے زیادہ پیداوار ہوئی، کسانوں کو معیاری بیج، کھاد کی فراہمی اور کسان پیکج کی بدولت گندم کی شاندار پیداوار کا حصول ممکن ہوا۔

انہوں نے کہا کہ بارشوں اور سیلاب کے باوجود گندم کی ریکارڈ پیداوار حکومت کی بہترین گورننس کا منہ بولتا ثبوت ہے، مالی مشکلات کے باوجود گندم کی بمپر پیداوار پر کاشت کار اور پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے، آئندہ سال حکومت اس سے بھی زیادہ گندم پیداوار کے لیے حکمت عملی مرتب کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…