منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

گندم اور چینی کے موجودہ بحران کے پیچھے حکومت کی سنگین غفلت اور نااہلی سامنے آگئی ، سب کچھ جاننے کے باوجود عمران خان پراسرارطور پر خاموش

datetime 13  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)گندم اور چینی کا موجودہ بحران حکومتی فیصلوں میں تاخیر کا نتیجہ ہے۔روزنامہ جنگ میں حنیف خالد کی شائع خبر کے مطابق اگر حکومت اس وقت ایک ملین ٹن سے زیادہ گندم کے ٹینڈر منظور کر لیتی جب 235ڈالر فی ٹن تک دستیاب تھی تو جنوری فروری

میں کراچی پہنچ وسطی ایشیائی گندم 280سے 290ڈالر فی ٹن نہ خریدنا پڑتی۔ وزیراعظم کو اس قومی نقصان اور تاخیر کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانا ہو گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی کے اٹھتے ہوئے بحران کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومت سفید چینی کی درآمد پر سیلز ٹیکس اور دوسرے محصولات زیرو کر دے، پاکستانی شوگر ملوں کی چینی پر بھی سترہ فیصد سیلز ٹیکس کم کر کے 7فیصد کر دیا جائے تو ملک میں پیدا ہونے والا چینی کا خوفناک بحران قابو میں آ جائیگا۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف کا کہنا ہے کہ اگرچہ گنے کی کم سے کم قیمت خرید حکومت نے دو سو روپے من مقرر کی مگر اب کین کمشنر کے تاخیری فیصلوں جو انہیں غیر قانونی گنے کی غیرقانونی خریداری کے مراکز بند کرنے اور لائسنس کے بغیر گنا خریدنے والے مڈل مینوں کو اینٹی ہورڈنگ ایکٹ کے تحت جیلوں میں ڈالنے کا اختیار استعمال کرنا ہے اس اختیار کے استعمال میں تاخیر کے نتیجے میں گنے کے ریٹ کم و بیش تین سو روپے من تک پہنچ گئے ہیں اور بعض علاقوں میں اس سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔ جب ملیں مہنگا گنا خریدیں گی تو وہ چینی کے ایکس ملز ریٹ بھی اسی تناسب سے بڑھانے پر مجبور ہونگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…