پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

تلور کے شکار کے مخالف عمران خان کی حکومت نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو شکار کھیلنے کی اجازت دیدی

datetime 2  دسمبر‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)وفاقی حکومت نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی حکمران خاندان کے دیگر 2 اراکین کو سال 21-2020 کے شکار سیزن میں بین الاقوامی تحفظ کے حامل پرندے تلور کے شکار کا اجازت نامہ جاری کردیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایاکہ دیگر دو شکاری گورنرز ہیں جن میں سے ایک نادہندہ ہیں کیوں کہ انہوں نے گزشتہ برس شکار کی

فیس ادا نہیں کی تھی۔ذرائع کے مطابق شکاریوں کو بلوچستان اور پنجاب کے مخصوص علاقوں میں شکار کی اجازت دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حالانکہ وزارت خارجہ کی جانب سے پروٹوکول اور سرکاری درجہ بندی کا خیال رکھنے کی توقع تھی تاہم اسلام آباد میں سعودی سفارت خانے کو بھیجی گئی شکاریوں کی فہرست میں سب سے طاقتور شخص اور سعودی عرب کے اصل حکمران محمد بن سلمان کا نام سب سے نیچے درج تھا۔ذرائع کے مطابق 16 اکتوبر 2020 کو جاری کیے گئے اجازت ناموں کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، وزیر دفاع اور نائب وزیراعظم کو پنجاب کے ضلع لیہ اور بھکر میں شکار کی اجازت دی گئی۔اسی طرح تبوک کے گورنر فہد بن سلطان بن عبدالعزیز السعود کو ضلع آوران، ضلع نوشکی اور ضلعی چاغی میں شکار کی اجازت دی گئی جبکہ حفر الباطن کے گورنر منصور بن محمد کے شکار کے لیے ڈیرہ غازی خان ضلع کو مختص کیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ تبوک کے گورنر فہد بن سلطان جو کچھ عرصہ قبل غیر قانونی طور پر 2 ہزار تلور کا شکار کرنے پر بین الاقوامی میڈیا کی نظروں میں آئے تھے انہوں نے گزشتہ برس شکار کی ایک لاکھ ڈالر فیس ادا نہیں کی تھی حالانکہ وہ گزشتہ برس اپنے ہمراہ 60 شاہین بھی لے کر آئے تھے لیکن انہوں نے اس کی بھی فیس نہیں دی تھی جو کہ ایک ہزار ڈالر فی شاہین تھی۔اس طرح مجموعی طور پر سال 20-2019 کے شکار کے سیزن کے لیے ان پر ایک لاکھ 60 ہزار ڈالر واجب الادا ہیں۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…