سیاست دانوں، ججوں اور جرنیلوں کے لیے ایک قانون اور ایک عدالت نہیں ہوگی تب تک ہم یہ کام نہیں کرسکتے،بلاول بھٹو نے وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہتے ہوئے بڑا الزام عائد کر دیا

  اتوار‬‮ 22 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  20:14

پشاور(این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زر داری نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ اے پی ایس کے بچوں کے قاتل احسان اللہ احسان دہشت گرد کو این آر او دیا گیا،سلیکٹڈ نے ہمارے بچوں کے قاتل کو جیل سے نکال دیا ہے،یہ تو اب بھی اچھے دہشت گرد اور برے دہشت گرد، اچھے طالبان اور برے طالبان کھیل رہے ہیں، ہم عوام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دینگے،این ایف سی سے خیبرپختونخوا کا حصہ نہیں دیا جا رہا ہے،نیب میں پاپا جونز کے بارے میں پوچھنے کی ہمت نہیں ہے،نیب کے سیاسی


انتقام اور جھوٹے کیسز کو اپوزیشن بھگت رہی ہے،نیب کو نظر نہیں آتا کہ کیسے سلائی مشین سے امریکا، نیویارک میں عمارتیں کھڑی ہو رہی ہے اور مالم جبہ میں کیا ہو رہا ہے،کٹھ پتلیوں کے پیچھے بیٹھے لوگوں سے بھی حساب لیں گے،جب سیاست دانوں، ججوں اور جرنیلوں کے لیے ایک قانون اور ایک عدالت نہیں ہوگی تب تک ہم کرپشن کا خاتمہ نہیں کرسکتے،اب عوام کی رائے چلے گی۔ پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ سب سے پہلے این آر او اے پی ایس کے قاتل کو ملا ہے، این آر او احسان اللہ احسان دہشت گرد کو ملا ہے، سلیکٹڈ نے ہمارے بچوں کے قاتل کو جیل سے نکال دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ تو اب بھی اچھے دہشت گرد اور برے دہشت گرد، اچھے طالبان اور برے طالبان کھیل رہے ہیں لیکن ہم ان کو عوام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم دہشت گردوں اور اس کی سہولت کار حکومت کو بھی اجازت نہیں دیں گے کہ عوام کے خون کے ساتھ کھیلا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہاں کے عوام، پولیس، فوج اور شہریوں نے قربانیاں دی ہیں اور ہم کٹھ پتلی کو اجازت نہیں دیں گے کہ دوبارہ دہشت گردی کریں۔ انہوں نے کہاکہ فاٹا کے عوام کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا کہ دہشت گردوں نے جو مکانات اور دکانات تباہ کیے ہیں اسکا معاوضہ دیا جائے لیکن افسوس کی بات ہے کہ فاٹا کے بجٹ میں کٹوتی کررہے ہیں اور شہدا کو معاوضہ نہیں دے رہے ہیں، یہ پی پی پی اور پی ڈی ایم کا وعدہ ہے کہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ جو آئی ڈی پیز بے گھر ہوئے ان کی مدد نہیں کی گئی، آپریشن کے بعد عوام کے مسائل حل کرنے کا وقت آتاہے تو وہ اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرتا ہوں۔بلاول بھٹو زردارینے کہا کہ آج بھی لاپتہ افراد میں اضافہ ہو رہا اور لاپتہ افراد کے مرکز قائم ہیں، جس کے حوالے سے مرحوم جسٹس وقار سیٹھ نے کہا تھا اور عدالت کا بھی حکم تھا کہ وہ پولیس کے حوالے کریں لیکن افسوس کی بات ہے آج تک اس پر کوئی کام نہیں ہوا، ہم چیف جسٹس وقار سیٹھ کو سلام پیش کرتے ہیں، ملک میں ایسے بہادر جج بھی موجود ہیں جن کے قلم سے ایسے فیصلے بھی آتےہیں اور ان میں ہمت ہے کہ آمر کے خلاف فیصلہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سلیکٹڈ حکومت کے دور میں تاریخی غربت اور تاریخی مہنگائی ہے، سلیکٹڈ حکومت کا بوجھ عوام اٹھا رہے ہیں، ان کی وجہ سے پہلے چینی کا بحران آیا پھر آٹا کا بحران اور اب گیس کا بحران آنے والا ہے۔انہوں نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں اتنا اضافہ ہوچکا ہے کہ پہلے جینا مشکل تھا اب جینا بھی مہنگااور مرنا بھی مہنگا ہوچکا ہے، یہ عمران خان او ر اس کے سہولت کاروں کا نیا پاکستان ہے، یہ تو کرپشن کے زیادہ خلاف تھے اور زیاد چیختے تھے لیکن سب کو پتہ چل گیا ہے کہ یہ تو کرپٹ ترین حکومت نکلی ہے۔انہوں نے کہاکہ اب تو ٹرانسپرنسی بھی کہہ رہی ہے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کے دور میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے، کرپشن تو حکومت کرتی ہے مگر نیب کے نشانےپر صرف اور صرف اپوزیشن ہوتی ہے، نیب کے سیاسی انتقام اور جھوٹے کیسز کو اپوزیشن بھگت رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب کو نظر نہیں آتا ہے کہ پشاور میں ملک کی سب سے مہنگی میٹرو ہے، جس کی بسیں خود بخود جل جاتی ہیں اور مسافروں کو دھکا دے کر چلانا ہوتا ہے مگر نیب کو نظر نہیں آتا کہ کیسے سلائی مشین سے امریکا، نیویارک میں عمارتیں کھڑی ہو رہی ہے اور مالمجبہ میں کیا ہو رہا ہے۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ نیب کو نظر نہیں آتا کہ فارن فنڈنگ کیس میں کیسے غیر ملکی، بھارت کے وزیر، اسرائیل کے شہری پی ٹی آئی کو فنڈنگ کرتے رہے، نیب کو نظر نہیں آتا کہ معاون خصوصی کے پاناما، اسپین اور مریکا میں جائیدادیں کیسے آئیں۔ انہوں نے کہاکہ ہنیب میں وہ ہمت نہیں ہے کہ وہ پوچھ سکیں پاپاجونز کا امپائر ایک معاون خصوصی نے پوریدنیا میں کاروبار کھڑا کردیا ہے مگر اب ان کے جانے کا وقت آگیا ہے اور جنوری تک مہمان ہیں، جنوری ان کا آخری مہینہ ہے اور پھر یہ چلے جائیں گے، اب ان سے حساب لینے کا وقت آیا تو عوام ان سے حساب لیں گے، ان کٹھ پتلیوں سے ضرور حساب لیں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کٹھ پتلیوں کے پیچھے جو ہیں ان سے بھی اور نیب سے بھی ہم حساب لیں گے، نیب کے آئی اوز سےلے کر چیئرمین تک حساب لیں گے، نیب کے ہر افسر سے پوچھیں گے اور جب آئی اوز سے لے کر چیئرمین تک سب سے پوچھا جائے گا کہ آپ کے آمدن سے زائد اثاثے کیا ہیں تو پھر پورے ملک کو پتہ چلے گا کہ اصل میں کرپٹ کون ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اس کرپشن کا ناسور اس وقت تک ختم نہیں کرسکتے جب تک ہم سب پاکستانیوں کے لیے ایک قانون نہیں ہوگا، جب سیاست دانوں،ججوں اور جرنیلوں کے لیے ایک قانون اور ایک عدالت نہیں ہوگی تب تک ہم کرپشن کا خاتمہ نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہاکہ جب تک ہم گڈ کرپٹ اور بیڈ کرپٹ کھیلتے رہیں گے تب تک کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوسکتا، وقت آنے والا ہے کہ احتساب ہم لیں گے، جب احتساب ہم کریں گے حساب دینے کے لیے تم کہاں ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا، پنجاب، بلوچستان اور وفاق میں اپنےنوکروں کی حکومت مسلط کرنا اور اب گلگت بلتستان میں اپنے نوکروں کی حکومت نافذ کرنے کے لیے اس ملک کے ساتھ کیا کچھ کیا گیا ہے، اس ملک میں نہ عوام آزاد ہیں، نہ سیاست آزاد ہے، نہ عدالت آزاد ہے، نہ صحافت آزاد ہے، جمہوریت کا جنازہ نکالا گیا ہے، انسانی حقوق تو ختم ہی ہوچکے ہیں اور خارجہ پالیسی میں ہمارے دوست بھی بھول چکے ہیں انہوں نے کہا کہ اب انہیں عوام کےفیصلے ماننے پڑیں گے، عوام کی رائے چلے گی، نہ پنڈی کی رائے چلے گی، نہ آبپارہ کی رائے چلے گی، اگر فیصلہ کریں گے تو پاکستان کے عوام فیصلہ کریں گے کہ اس ملک میں حکمرانی کون کرے گا، اس ملک کی معیشت کیسے چلے گی اور اس ملک کی خارجہ پالیسی کیسے چلے گی۔انہوں نے کہاکہ میں پی ڈی ایم کا منشور اور نظریہ گلگت بلتستان کے پہاڑوں تک لے کر گیا تھالیکن دھاندلی سے پی ڈی ایم کو وہ حق نہیں دیا گیا مگر ان کے ہتھکنڈوں اور دھاندلی کے باوجود سب سے زیادہ ووٹ پی ڈی ایم کی جماعتوں کو ملے ہیں اور پی ٹی آئی کو شکست ہوئی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے پی ڈی ایم کے نظریے کو زیادہ ووٹ دیا ہے اور اس دھاندلی کے بعد احتجاج شروع ہوا اور ایک نعرہ بلند ہورہا ہے کہ میرے ووٹ پر ڈاکا نامنظور اور لوگ جذبے کے ساتھ پی ڈی ایم میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ڈیڈ اینڈ

ارنسٹ ہیمنگ وے نوبل انعام یافتہ ادیب تھا اور یہ دہائیوں سے انسانی فکر کو متاثر کررہا ہے‘ ہم میں سے کم لوگ جانتے ہیں ہیمنگ وے نے اپنا کیریئر صحافی کی حیثیت سے شروع کیا تھا‘ یہ وار رپورٹر تھا‘ محاذ جنگ سے ڈائری لکھتا تھا اور لاکھوں لوگ اس کی تحریروں کا انتظار کرتے تھے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

ارنسٹ ہیمنگ وے نوبل انعام یافتہ ادیب تھا اور یہ دہائیوں سے انسانی فکر کو متاثر کررہا ہے‘ ہم میں سے کم لوگ جانتے ہیں ہیمنگ وے نے اپنا کیریئر صحافی کی حیثیت سے شروع کیا تھا‘ یہ وار رپورٹر تھا‘ محاذ جنگ سے ڈائری لکھتا تھا اور لاکھوں لوگ اس کی تحریروں کا انتظار کرتے تھے‘ اس ....مزید پڑھئے‎