پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

لاہور موٹروے کیس ، مرکزی ملزم عابد ہر بار کیسے بچ جاتا ہے پولیس کے چھاپے سے قبل اسے کیسے اطلاع دے دی جاتی ہے، چونکا دینے والے انکشافات

datetime 18  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور موٹروے کے مرکزی ملزم عابد علی تک چھاپے کی خبر پہنچ جاتی ہے ۔ سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ یہ کیسا قانو ن ہے8دن سے زائد ہو گئے ،پہلے دن ہی کیس کے ملزمان کو پکڑنے کا اعلان ہو گیا تھا ، ان کا کہنا تھا کہ خبر آتی ہے کہ ملزمان کا گھیرائو کر لیا گیا ایسی خبر کے ملتے ہی ملزم پہلے ہی الرٹ ہو جاتا ہے اور وہ

اپنی جگہ سے نکل کر کہیں اور چلا جاتا ہے ، قبل ازیں لاہور موٹر وے کیس میں گرفتار ملزم عابد علی کی بیوی نے پولیس کو اپنا ابتدائی بیان ریکارڈ کروا دیا، نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق خاتون کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد عابد گھر آیا تھا کافی پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ واقعے کے بارے میں عابد نے مجھے نہیں بتایا۔واقعے کے بعد عابد کی شناخت ہوئی تو وہ فرار ہو گیا۔میں بھی بچی کو چھوڑ کر والدین کے گھر آ گئی۔میری عابد کے ساتھ دوسری شادی ہے۔عابد کئی روز تک گھر نہیں آتا تھا،پوچھتی تھی تومارتا تھا۔دریں اثنا پولیس نے لاہور موٹروے کیس کے مرکزی ملزم عابد علی سے رابطے میں رہنے والے 5 رشتہ داروں کو حراست میں لے لیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے ملزم عابد علی سے دو روز قبل رابطے میں رہنے والے 5 رشتہ داروں کو حراست میں لیا ہے۔مرکزی ملزم کے رشتہ داروں سے تفتیش لاہور میں کی جائے گی۔ اس سے پہلے مفرور ملزم عابد علی کی اہلیہ کو پولیس نے حراست میں لیا تھا جس کے بعد ملزم کی بیوی کی نشاندہی پر مختلف جگہوں پر چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم عابدعلی کو گرفتار کرنے کیلئے اب تک 66چھاپے مارے جا چکے ہیں۔لیکن ابھی تک پولیس کو ناکامی کا سامنا ہے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…