جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

موٹروےکیس ، متاثرہ خاتون نے ملزم عابدعلی اور شفقت حسین کی پہچان کرلی میری روح کو تسکین دونوں کو عبرتناک سزا سے ملے گی ، متاثرہ خاتون کا وزیراعظم سے مطالبہ

datetime 15  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)موٹروے کیس میں متاثرہ خاتون نے پولیس کو مطلوب ملزم عابد کی شناخت کر دی ہے ۔ دونوں ملزمان کو سزائے موت دی جائے ۔ تفصیلات کے مطابق موٹروے کیس میں متاثرہ خاتون نے دونوں ملزمان عابد علی اور شفقت حسین کی کی شناخت کر دی ہے اور انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ملزمان کو جب تک پھانسی کی سزا نہیں دی جاتی

میری روح کو تسکین نہیں ملے گی ۔ پولیس اعلی حکام کی جانب سے متاثرہ خاتون کو دونوں ملزمان کی تصاویر بھیجی گئیں تھیں جنہیں دیکھ کر انہیں تصدیق کر دی ہے کہ یہ دونوں واقعہ میں ملوث ہیں ، میری وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ ہے کہ دونوں ملزمان کی پھانسی تک میر ی روح کو سکون نہیں ملے گا ۔ دریں اثنا لاہور سیالکوٹ موٹر وے واقعہ کی متاثرہ خاتون نے گرفتاری پیش کرنے والے وقار الحسن کی شناخت سے انکار کر دیا، پولیس نے ڈی این اے کیلئے سیمپل بھی لے لئے۔ نجی ٹی وی کے مطابق پولیس کی جانب سے سی آئی اے ماڈل ٹاؤن میں از خود گرفتاری دینے والے ملزم وقار کی تصویر اور فوٹیج واٹس ایپ کے ذریعے متاثرہ خاتون کو شناخت کے لیے بھجوائی تاہم خاتوننے ملزم وقار کی شناخت سے انکار کر دیا۔خاتون کا کہنا ہے کہ وقار واقعے میں شامل نہیں تھا۔پولیس نے جیو فینسنگ کے بعد وقار الحسن کی تصویر بطور ملزم جاری کی تھی۔مزید بتایا گیا ہے کہ گرفتار پیش کرنے والے ملزم کے ڈی این اے کیلئے سیمپل لے لئے گئے ہیں جنہیں خاتون کے ڈی این اے سے میچ کیا جائے گا اور حقائق ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کے بعد سامنے آئیں گے۔قبل ازیں لاہور موٹر وے کیس کی متاثرہ خاتون نے ملزم کی شناخت کر دی ہے، اس بات کا انکشاف معروف صحافی فریحہ ادریس نے کیا، انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاتون کو جب ملزم شفقت کی شناخت کروائی گئی تو انہوں نے ملزم شفقت کی تصدیق کردی۔واضح رہے کہ پولیس نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر پیش آنے والے افسوسناک واقعہ میں

مرکزی ملزم عابد کے دوست شفقتکو گرفتار کرلیا ہے جس نے واقعہ میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔ شفقت نامی شخص کو دیپالپور سے گرفتار کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ از خود گرفتار ی پیش کرنے والے ملزم وقار الحسن نے اپنے بیان میں شفقت نامی شخص کی نشاندہی کی تھی، وقار الحسن کے مطابق ملزم شفقت مرکزی ملزم عابد کا قریبی دوست ہے اور دونوں مل کر وارداتیں کرتے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتارملزم شفقت نے واقعے میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا جبکہ اس کا ڈی این اے بھی میچ ہوگیا ہے، شفقت نے دوران تفتیش انکشاف ہے کہ مرکزی ملزم عابد نے شیخوپورہ میں بھی ڈکیتی کے دوران خاتون کو بے آبرو کیا لیکن اس کے خلاف صرف ڈکیتی کا مقدمہ درج ہوا، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزار اور آئی جی پنجاب انعام غنی نے بھی واقعہ کے ایک ملزم کی گرفتاری کی

تصدیق کی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ٹوئٹ پر واقعہ میں ملوث ایک ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شفقت نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔ مرکزی ملزم عابد کی گرفتاری کیلئے بھی ٹیمیں کوشاں ہیں اور اسے بھی جلد گرفتار کر لیا ہائے گا۔آئی جی پنجاب انعام غنی نے کہا ہے کہ اللہ کے فضل وکرم، جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کے سائنسی تجزیے اور تفتیش کی

روشنی میں پنجاب پولیس نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس کے ملزموں میں سے ایک ملزم شفقت علی ولد اللہ دتہ سکنہ ہارون آباد، ضلع بہاولنگر کو گرفتار کر لیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملزم شفقت علی کا ڈی این اے جائے وقوعہ سے حاصل شدہ ڈی این اے سے مطابقت رکھتا ہے۔ آئی جی پنجاب نے مزیدکہاکہ جس طرح پنجاب پولیس کی شبانہ روز کاوشوں سے ملزمان کی شناخت اور ملزم شفقت کی گرفتاری عمل میں آئی ہے اسی طرح انشا ء اللہ مفرورملزم عابد ملہی کو بھی جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں پیش کردیا جائے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…