پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی 5 پاکستانی سکالرزنے گلوبل فیوچر فیلوشپ حاصل کر لی

datetime 24  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)پانچ  پاکستانی  اسکالرزنے گلوبل فیوچر فیلوشپ حاصل کر لی جبکہ میٹا فیوچر اسکول نے فیوچرز ‘تھنکنگ’ کے مطالعہ کے لئے اسکالرشپ میں توسیع کر دی۔میٹافیوچر  اسکول نے فیوچر اسٹڈیز اور ٹرانسفارمیٹو فورسائیٹ میں اپنی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لئے پانچ غیر معمولی پاکستانی نوجوان اسکالرز کو وظائف میں توسیع دی ہے۔پاکستان سے عالمی فیوچر فیلوشپ حاصل

کرنے والے شرکاء میں محمد مدبر ماجد، محمد موسا ہاشم، علینا سلمان، ہشام ساجد اور انعم قاسم شامل ہیں۔ یہ تمام  باصلاحیت نوجوان 18 سے 35 سال کی عمر کے درمیان ہیں۔فیلوشپ جیتنے والوں کو اپنی محنت اور لگن،  اپنے  پیشہ ورانہ کیریئر کو پروان چڑھانے  اور اپنی کمیونٹی کیلئے کام کرنے کی وجہ سے آگاہی کی جانب سے نامزد کیا گیا تھا۔ میٹافیوچر اسکول کے بانی اور چیف انسٹرکٹر سہیل عنایت اللہ کا کہنا تھا کہ”ہمارا ارادہ یہ ہے کہ، یہ نوجوان پاکستانی اپنے ملک میں عملی پیشگی سیکھنے کے منصوبوں کو تیار کرنے کے لئے فیلڈ اور اسکول کی معلومات اور معلومات کو استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ منصوبے ذاتی مستقبل کے بارے میں ہو سکتے ہیں یعنی اندرونی تبدیلی یا پھر وسیع بیرونی تبدیلیوں کے بارے میں، جیسے پانی کے مستقبل، یا صاف شہروں، پیر ٹو پیر پیر شمسی نیٹ ورکس یا قومی اور عالمی مسائل جیسے موسمیاتی تبدیلی 2050 یا ایشیاء 2050 کے بارے میں۔ انہوں نے مزید کہا، ”ہم امید کرتے ہیں کہ وہ پاکستان اور وسیع تر فیوچر کمیونٹی کے مابین ایک فرق پیدا کریں گے۔اس موقع پر بانی و صدر آگاہی، دی فلیگشپ  ریسرچ انسٹیٹیوشن آن فیوچرز اینڈ فارسائیٹ ریسرچ ان پاکستان،  پریوش چوہدری نے کہا کہ میں پاکستان کی نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی کے بارے میں بہت پرجوش ہوں کہ وہ مستقبل کی سوچ اور حکمت عملی سے مستقبل پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں،ہم ملک سے کچھ بہت ہی ذہین ذہنوں کو نامزد کرنے میں کامیاب رہے، ہم امید کر رہے ہیں کہ 2021 میں نامزدگی کے عمل کو وسعت دیں او ر ہم  اسکالرشپ اور سرٹیفیکیشن  کیلئے میٹا فیوچر اسکول  کے انتہائی مشکورہیں۔میٹافیوچر ایک تعلیمی تھنک ٹینک ہے جو متبادل اور ترجیحی مستقبل اور عالمی نظریات پر کام کرتا ہے۔ پریزنٹیشنز، ورکشاپس اور تحقیق کے ذریعے میٹافیوچ مقامی اور عالمی تنظیموں اور اداروں کو متبادل اور ترجیحی مستقبل بنانے میں مدد کرتا ہے۔ اس کی میزبانی سہیل عنایت اللہ اور ائیوانا میلوجیوک کررہے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…