بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

’’جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ‘‘ میرے والد صاحب کی انتہائی صحت تشویشناک تھی ،اْن کے بچنے کی کوئی امید نہیں تھی ، پاکستان میں 103 سالہ بزرگ نے کورونا کو شکست دے دی

datetime 21  جولائی  2020 |

چترال (آن لائن) اپر چترال کے دوردراز پہاڑی علاقوں سے تعلق رکھنے والے 103سالہ بزرگ، عبدالعلیم نے کووِڈ 19- (COVID-19)کو شکست دے دی۔ عزیز عبدالعلیم ساکن بونی کو حال ہی میں ، اپر چترال کے علاقے بونی میں ،قائم کیے گئے آغا خان ہیلتھ سروس ایمرجنسی ریسپانس سینٹر میں یکم جولائی کو داخل کیا گیا تھا۔ ان کا کووِڈ 19-کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ اْن کا علاج فوراً شروع کر دیا گیا تھا

اور ایمرجنسی سینٹر میں تقریباً دو ہفتے داخل رہنے کے بعد وہ صحت یاب ہوگئے اور اِس دوران انہیں اضافی آکسیجن کی ضرورت نہیں پڑی۔ صحت بہتر ہونے، اور کسی قسم کی علامات ظاہر نہ کرنے پر انہیں 13جولائی، 2020ء کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس بارے میں آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان(AKHS,P) کے ریجنل ہیڈ فار چترال معراج الدّین نے کہا:’’ہم نیعبد العلیم کی عمر زیادہ ہونے کے باعث ایک انتہائی نازک حالت والے مریض کے طور پر علاج کیا اور مناسب طبی دیکھ بھال فراہم کرنے کے ساتھ نفسیاتی اور اخلاقی مدد بھی فراہم کی۔ فکرمندی کے ایسے موقع پر نفسیاتی اور اخلاقی مدد کی بھی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ اِس سہولت پر ہم نے بہت کم وقت میں کووِڈ 19- کے 59 مریضوں کا کامیابی سے علاج کیا ہے جن میں بعض زیادہ عمر کے افراد بھی تھے۔‘‘’’ہم اپنے والد کی انتہائی خراب صحت کے پیش نظر بہت تشویش میں تھے۔ ہمیں اْن کے بچنے کی کوئی امید نہیں تھی تاہم، جب میرے والد صاحب کوہسپتال کے فارغ کیا گیا تو ہم سب بہت خوش تھے۔ اُنہوں نے ریسپانس سینٹر میں موجود عملے کے تمام افراد اور ہر اْس شخص کا شکریہ ادا کیا جس نے اْن کی دیکھ بھال میں حصہ لیا تھا۔‘‘ عبدالعلیم کے بیٹے سہیل عزیز نے کہا کووِڈ 19-کے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے 28بستروں پر مشتمل دیکھ بھال کی اِس سہولت میں مرد اور خواتین مریضوں کو الگ الگ رکھا جاتا ہے اور کووِڈ 19-کی درمیانی، شدید اور نازک علامتیں رکھنے والے مریضوں کے علاج کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اِس سہولت کو 32 افراد پر مشتمل عملہ چلاتا ہے جن میں 8 ڈاکٹرز اور 20 نرسیں شامل ہیں ۔ اُنہیں فراہم کی گئی تمام لازمی اشیاء میں ادویات اور مریضوں کے لیے پرسنل پروٹیکٹو ایکوپمنٹ (PPE) شامل ہیں.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…