بلوچستان حکومت میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے،وزیر اعلیٰ کیخلاف بڑا قدم اٹھا لیا گیا

  جمعہ‬‮ 24 جنوری‬‮ 2020  |  22:59

کوئٹہ (این این آئی)بلوچستان میں حکمران جماعت میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے اور اسپیکر صوبائی اسمبلی عبدالقدوس بزنجو نے وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک استحقاق جمع کرا دی۔اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو نے تحریک استحقاق میں موقف اختیار کیا کہ وزیر اعلی بلوچستان نے مقامی اخبار میں میرے خلاف بیان دیا ہے،بیان میں کہا گیا ہے کہ میں جذباتی شخص ہوں اور جذبات میں آکر باتیں کرجاتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ بحیثیت اسپیکر مجھے اظہار رائے کی مکمل آزادی حاصل ہے، میرے خلاف بیان میں غیر مہذب اور غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔عبدالقدوس بزنجو نے


مطالبہ کیا ہے کہ تحریک استحقاق کو متعلقہ کمیٹی کے حوالے کیا جائے کیونکہ وزیر اعلیٰ کے اس بیان سے نہ صرف میرا بلکہ پورے ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے جام کمال کے خلاف اپنے الزامات دہراتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پہیہ جام ہے، آٹھ ماہ پہلے کہہ چکا ہوں کام نہیں ہو رہا، جام کمال میرے لیے محترم ہیں لیکن کام نہیں ہو رہا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) صوبے کے عوام کی جماعت ہے لیکن وزیر اعلیٰ آفس عوام کا آفس نہیں رہا لہٰذا مجبور ہو کر آواز اٹھائی ہے۔عبدالقدوس بزنجو نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں حکومت بنانے میں کوئی مشکلات نہیں ہیں، اپوزیشن نے کہا 10 اراکین لے آؤ ہم تیار ہیں، پارٹی کے تمام اراکین ناراض ہیں اور جب چاہو 10 کے بجائے 15 اراکین لاسکتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں اس سے بدتر حکومت اس سے پہلے کبھی نہیں آئی، جام کمال اچھے شخص ہیں لیکن فیصلے نہیں کر سکتے، پارٹی کے اندر تبدیلی لائیں گے اور پارٹی ختم نہیں ہوگی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا

خواجہ خورشید انور پاکستان کے سب سے بڑے موسیقار تھے‘ پاکستانی موسیقی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جسے ’’خواجہ کا وقت‘‘ کہا جاتا تھا‘ وہ دھن نہیں بناتے تھے دل کی دھڑکن بناتے تھے اورجب یہ دھڑکنیں دھڑکتی تھیں تو ان کی آواز روح تک جاتی تھی‘ خواجہ صاحب نے 1958ء میں جھومر کے نام سے فلم شروع ....مزید پڑھئے‎

خواجہ خورشید انور پاکستان کے سب سے بڑے موسیقار تھے‘ پاکستانی موسیقی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جسے ’’خواجہ کا وقت‘‘ کہا جاتا تھا‘ وہ دھن نہیں بناتے تھے دل کی دھڑکن بناتے تھے اورجب یہ دھڑکنیں دھڑکتی تھیں تو ان کی آواز روح تک جاتی تھی‘ خواجہ صاحب نے 1958ء میں جھومر کے نام سے فلم شروع ....مزید پڑھئے‎