جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

نوکریاں صرف 2 لوگوں کو دی گئیں، مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کے استعفے کے ساتھ ساتھ پوری کابینہ کو گھر بھیجنے کا اعلان کر دیا

datetime 30  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایک مرتبہ پھر آزادی مارچ کی کامیابی کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے استعفے کے ساتھ ساتھ پوری کابینہ کو گھر بھیجیں گے،ہم آزادی مارچ کر رہے ہیں، کوئی دھرنا نہیں ہے، یہ ایک تحریک کا نام ہے، کون کہتا ہے فضل الرحمان اسلام آباد نہیں پہنچے گا، اسلام آباد پہنچنے پر عوامی رائے کا احترام نہ کیا توآزادی مارچ مزید سخت ہوگا،ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا گیا

لیکن اس حکومت میں صرف دو لوگوں کو نوکریاں ملی ہیں جن میں ایک گورنر اسٹیٹ بینک او رایک چیئرمین ایف بی آر شامل ہیں،25 جولائی کوجوانتخابات ہوئے ان میں بدترین دھاندلی ہوئی،اس کے نتائج کوقبول نہیں کرتے،ہم حضرت امام حسین کے پیرو کار ہیں، ہم نے پہلے دن سے ہی بیعت نہیں کی، آج کوئی بھی حضرت امام حسین کی قربانی کو بغاوت نہیں کہہ رہا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائشگاہ پر میڈیا سے گفتگو اور آزادی چوک میں آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پروفیسر ساجد میر، قمر زمان کائرہ، اویس نورانی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں آزادی مارچ کے متوالوں، ختم نبوت کے جانثاروں، عقیدہ ختم نبوت کے محافظوں اور ملک کی بقاء اور سلامتی کے لئے جان سے گزرنے والوں کے جوش و جذبے اور ولوے کو سلام پیش کرتا ہوں۔ مارچ جہاں سے بھی گزرا اسے حمایت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی بھی دھرنے کا لفظ استعمال نہیں کیا،ہم آزادی مارچ کر رہے ہیں، کوئی دھرنا نہیں ہے، یہ ایک تحریک کا نام ہے، اسلام آباد پہنچنے اور مطالبات پورے نہ ہونے پر تحریک کو مزید سخت کیا جائے گا۔اپنے مطالبات سامنے رکھیں گے اور پھر دیکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 25جولائی کو جو انتخابات ہوئے اس میں بد ترین دھاندلی ہوئی، ہم اس کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے۔

اس حکومت کی حیثیت یہ ہے کہ یہ ناجائز ہے اور اس کی ایک سال کی کوئی کارکردگی نہیں۔ختم نبوت کے معاملے پر مذہبی حلقے نے کرب کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ۔آج معیشت تباہ ہوچکی ہے،حکومت نے عوام کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ جہاں انہیں اپنی بقا کی جنگ لڑنا پڑے گی،آج مریضوں کو ادویات میسر نہیں۔اس نئے پاکستان میں ایک استاد کیلئے یہ رہ گیا ہے کہ اگر وہ اپنے مطالبات کے آتا ہے تو اسے تشدد کا نشانہ بنایا جائے، خواتین اساتذہ کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔

لوگوں کو کہا گیا 50لاکھ گھر بناکر دیں گے لیکن 50 لاکھ گھر گرائے تو گئے ہیں لیکن بنائے نہیں گئے۔ایک کروڑنوجوانوں کو نوکریاں دینے کے دعوی کرنے والوں نے روزگار بھی چھین لیا ہے،صرف دو لوگوں کو نوکریاں ملی ہیں ایک اسٹیٹ بینک کے گورنر اور ایک ایف بی آر کے چیئرمین کو، آج کاروباری طبقہ پریشان ہے اور انکے لئے کاروبار کرنا مشکل بنا دیا گیا ہے،آزادی مارچ ان لوگوں کے جذبات کا ترجمان ہے۔انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ میں شرکت کرنے والی تمام جماعتوں کی قیادت او ران کے کارکنان کا شکر گزار ہوں۔ یہ پاکستان کی آزادی اوربقا ئی کے لیے مارچ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…