منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

حساس ادارے پر الزام، مجھے جیل بھیجیں یاپھانسی دیں میں تیار ہوں،سینیٹر حاصل بزنجونے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 4  اگست‬‮  2019 |

کوئٹہ(آن لائن)نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹرمیر حاصل بزنجونے کہا ہے کہ مجھے جیل بھیجیں یاپھانسی دیں میں تیار ہوں،مجھے پنجاب کی جیل میں جاکر خوشی ہوگی مجھے عدالت نے طلب کیا ہے حساس ادارے پر الزام کا جواب گوجرانوالہ عدالت میں دوں گاوزیرقانون نے پانچ سال کیلئے جیل بھیجنے کا بیان دیا۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اب حساس ادارے پر الزام کا جواب عدالت میں دوں گا، مجھے گوجرانوالہ عدالت نے بلا لیا ہے میری نظر سے

آج ایک خبر گزری کہ وزیرقانون مجھے پانچ سال کیلئے جیل بھیجنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح وزرا نے جیل بھیجنے کیلئے جن کے نام بھی لیے وہ سب پکڑے گئے ہیں مجھے امید ہے کہ حکومت مجھے بھی جیل بھیج دے گی۔مجھے خوشی ہوگی کہ پاکستان کا واحد صوبہ پنجاب ہے جس کی جیل میں نہیں رہا ہوں۔جیل میرے لیے دوسرا گھر ہے میں نے ایوب خان، ضیا الحق اور بھٹو کے ادوار میں جیل دیکھی ہیں مجھے جیل میں جاکر خوشی ہوگی۔میں دل کا مریض ہوں، مجھے پانچ سال کیلئے نااہل کردیں، شاید یہ لائف ٹائم ہوگا، کیونکہ تب تک تومیں شاید ویسے بھی زندہ نہ رہوں یہ ایک مقدمہ کریں، تین کریں، پھانسی جتنی بار بھی دی جائے، پھانسی توایک بار ہی ہوجاتی ہے میں جیل، پھانسی کیلئے تیار ہوں میراخیال ہے کہ انہوں نے مقدمہ بنانے اور بیان بازی کرنے میں جلدی کی، مجھ سے پوچھا توجانا چاہیے تھا کہ میں نے ایسا کیوں کہا؟حاصل بزنجونے کہا کہ میڈیا اور حکومتی لوگوں نے بڑی خوبصورت اصطلاع متعارف کروائی ہے کہ ضمیر فروشی کے خلاف ووٹ دیا ہے ایسے سینیٹرز جب وہ کھڑے ہوتے ہیں تو64 ہوتے ہیں اور جب ووٹ ڈالتے ہیں تو50 ہوجاتے ہیں یہ وہ لوگ جن کو ان ایم پی ایز این ایز نے منتخب کیا جن کو لاکھوں عوام نے ووٹ دے کرارکان اسمبلی بنایا۔یہ پارٹی سے غداری ہے بھئی ان کے ضمیروں کو15منٹ میں کیا ہوگیا ہمیں بکنے والوں کی تلاش نہیں ہم ان کو تلاش کرلیں گے، ہم خریداروں کو تلاش کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ ان سینیٹرز کیلئے جماعتوں کے آئین میں جو سزائیں ہیں ان کو ملیں گی ان بکامال کا کام بڑھتا چلا جارہا ہے یہ ضمیر فروشی نہیں ہونی چاہیے اگر کوئی دشمن ملک ہمارے ارکان اسمبلی کو خرید لے اور کچھ بھی کرلے توہم کہیں گے کہ ضمیر کی آواز ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…