منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

روپے کی بے قدری اور شرح سود میں اضافہ ،پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں بدترین مندی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے،سرمایہ کاروں کو کھربوں کا نقصان

datetime 9  دسمبر‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی) امریکی ڈالر کے سامنے پاکستانی روپے کی بے قدری اور شرح سود میں اضافے کے باعث گزشتہ ہفتہ کے دوران پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں بدترین مندی ریکارڈ کی گئی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے نئی سرمایہ کاری کے بجائے مارکیٹ سے سرمایہ نکالنے کے دباؤ کے باعث کے ایس ای100انڈیکس میں 1934پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی

جس سے انڈیکس 40ہزار اور39ہزار کی بالائی نفسیاتی حدوں سے گرتے ہوئے 38562پوائنٹس کی سطح پر آگیا جب کہ حصص کی قیمتوں میں کمی آنے سے سرمایہ کاروں کو بھی اس دوران 2کھرب84ارب 88کروڑ70لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔اسٹاک ماہرین کے مطابق 3تا7دسمبر پر مشتمل کاروباری ہفتے کے دوران سرمایہ کار اضطراب کا شکار نظر آئے جس کے نتیجے میں رواں سال کے دوران کسی بھی ہفتے میں سب سے بڑی مندی دیکھنے میں آئی ۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے توقعات کے برعکس 1.5فیصد اضافہ کیا گیا جس کے باعث کاروباری ہفتے کا آغاز شدید مندی سے ہوا اور پہلے ہی روز پیر کو کے ایس ای100انڈیکس13بلائی نفسیاتی حدوں سے گرتے ہوئے 1335.43پوائنٹس کمی سے 39160.60پوائنٹس کی سطح پر آگیااور85.98فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جس سے سرمایہ کاروں کو2کھرب41ارب62 کروڑ روپے سے زائدکا خسارہ ہوا ۔منگل کو بھی ڈالر کی قدر بڑھنے اور معاشی مشکلات کے باعث اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا لیکن آخری اوقات میں مندی کے سبب سستے ہونے والے شیئرز کی خریداری کے باعث تیزی غالب آگئی اورکے ایس ای100انڈیکس442.27پوائنٹس کی ریکوری سے 39602.87پوائنٹس کی سطح پر آگیا جس سے مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں1کھرب44کروڑ 53لاکھ روپے سے زائد کااضافہ ہوا۔

لیکن اس کے برعکس بدھ کو بھی اتارچڑھاؤ دیکھنے میں آیا لیکن مجموعی طور پر مندی غالب آگئی اور کے ایس ای100انڈیکس 39600،39500اور39400کی نفسیاتی حدوں سے گرگیااورمندی کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کو50ارب99 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔اسی طرحجمعرات کو بھی زبردست مندی چھائی رہی اورکے ایس ای100انڈیکس 1ہزار پوائنٹس گھٹ گیا جس کی وجہ سے مارکیٹ 39ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد سے گر گئی اور 38300پوائنٹس کی کم ترین سطح پر بند ہوئی ۔مندی کے سبب مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے135ارب روپے ڈوب گئے۔

کاروباری ہفتے کے آخری روز جمعہ کو بھی زبردست اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہالیکن مجموعی طور پر تیزی کے اثرات غالب آگئے اورکے ایس ای100انڈیکس261.42پوائنٹس کی ریکوری سے 38562.05پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا جب کہ 64.40فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں مارکیٹ کے سرمایہ کاری مالیت میں 42ارب99کروڑ37لاکھ روپے کا اضافہ ہوا ۔اسٹاک ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں بھی منفی رجحان غالب رہنے کا امکان ہے تاہم مندی کے نتیجے میں شیئرز سستے ہونے کی وجہ سے پرکشش سطح پر آگئے ہیں جس کی خریداری سے ریکوری بھی متوقع ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…