اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

شہر اقتدار میں پانی کا بحران شدید ،شہری گندا پانی استعمال کرکے ہسپتالوں کے چکر لگانے پر مجبور،انتظامیہ خاموش ،جانتے ہیں ایک ٹینکر کتنے میں بکنے لگا؟

datetime 26  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )شہر اقتدار میں وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) اور انتظامیہ کی نااہلی کی باعث پانی کی قلت میں شدید اضافہ ہو گیا ہے ،اسی باعث نجی ٹینکر مافیا نے بھی اسلام آباد میں پنجے گڑھ لئے ہیں، اسلام آباد کے شہری ٹینکر مافیا کو 1500سے 3500روپے فی ٹینکر دینے پر مجبورہو گئے ہیں ۔دوسری جانب شہریوں نے انکشاف کیا ہے کہ ٹینکرمافیا اکثر گندا پانی سپلائی کرتے ہیں جو نقصان دہ ہے۔

پانی کی صفائی کا خیال نہ رکھنے کیوجہ سے شہریوں کا ہسپتال کے چکر لگانا بھی معمول بن چکا ہے ۔تفصیلات کے مطابق وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں پانی کی قلت کی وجہ سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔جبکہ گزشتہ تین سالوں میں کم بارشیوں نے بھی پانی کی قلت میں اضافہ کر دیا ہے۔دوسری جانب سی ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن اسلام آباد کے شہریوں کو پانی پہنچانے میں ناکام ہیں اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نجی ٹینکر مافیا نے بھی اسلام آباد میں پنجے گڑھ لئے ہیں ٹینکر مالکان شہریوں سے من پسند قیمتیں وصول کر رہے ہیں اور شہری انتظامیہ کی جانب سے پانی نہ ملنے پر یہ قیمتیں ادا کرنے پر مجبور ہیں ۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی 14لاکھ 33ہزار کی آبادی کو پانی فراہم کرنے کیلئے وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے)کے صرف 8ٹینکرز زیراستعمال ہیں او ر یہ ٹینکر بھی صرف منظور نظر شخصیات اور سیکٹرز میں پانی میسر کرنے میں استعمال ہوتے ہیں اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹینکر مافیا نے فی ٹینکر 1500سی3500روپے چارج کرنا شروع کر دیئے ہیں۔سی پی پی کے رابطے پر ایک ٹینکر مالک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسلام آباد ہم 5کلو میٹر کی حد میں 1000،10سے 15کلو میٹر میں 1500سے 2000روپے اور 20کلو میٹر کی فاصلے پر 2500سی3500روپے چارج کرتے ہیں۔

اس نے مزید بتایا کہ رمضان المبارک کے دنوں میں سی ڈی اے ٹینکر میصر نہ ہونے کیوجہ سے بجی ٹینکرمالکان نے ٹینکرزکی قیمتیں دگنی کر دی تھی ،جہاں اسلام آباد کے شہری بوند بوند کو ترس رہے تھے اورپانی کیلئے شہری دگنی قیمتیں دینے کو بھی تیار تھے وہیں ٹینکرز اور پانی کی صفائی کاخیال نہ رکھنے کی وجہ سے شہری بیمار یوں کا بھی شکار ہوتے رہتے ہیں ۔

زیادہ ٹینکر مافیا بھارہ کہو سے ٹینکر بھرتے ہیں اور شادی بیاہ کی تقریبات پر بھی انہیں بلایا جاتا ہے جبکہ ٹینکر اور پانی کی صفائی پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی ٹینکر مافیا کا واحد ہدف پیسے بنانا ہوتا ہے نہ کہ شہریوں کی صحت کی فکر کرنا ۔سی ڈی اے ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی عوام کو روزانہ کی بنیاد پر 120ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے جبکہ (سی ڈی اے )اور انتظامیہ کی جانب سے شہری علاقوں میں بامشکل 58ملین گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

معلوم ہو کہ شہریوں کو پانی فراہم کرنے کیلئے سی ڈی اے اور انتظامیہ سملی ڈیم ،خان پور ڈیم ،اورزیر زمین پانی استعمال کرتے ہیں تاہم گزشتہ تین سالوں میں کم بارشو ں کے باعث سملی ڈیم اور خان پور ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول کے قریب پہنچ چکی ہے ۔جبکہ زیر زمین پانی بھی خطرناک سطح تک نیچے چلا گیا ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے جب پانی سپلائی نہیں کیا جائیگاتو ہمیں مجبورانجی ٹینکر مافیا کو کئی گناہ قیمت دے کر ٹینکر منگوانے پرتے ہیں ،تاہم بارشیں نہ ہونے کے باعث بورنگ کا پانی بھی میسرنہیں ہوتاان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات پانی نہایت گندا ہوتا ہے اور جب نجی ٹینکر مالکان کو شکایت کی جاتی ہے کوئی توجہ نہیں دی جاتی اور آئے دن بچے اور بزرگ بیمار ہوتے رہتے ہیں اس معاملے پرجب سی پی پی نے ڈائریکٹر واٹرسپلائی نیربٹ سے موقف لینے کی کوشش کی تو ان سے رابطہ نہ ہو سکا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…