منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

نئے ماڈل کی سستی گاڑیاں، قیمت کم از کم تین لاکھ روپے، سینکڑوں کی تعداد میں یہ گاڑیاں پاکستان کے کس علاقے میں دھڑا دھڑ فروخت کی جا رہی ہیں؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 12  مئی‬‮  2018 |

کوئٹہ(نیوز ڈیسک) کوئٹہ سمیت صوبے کے بیشتر علاقوں میں غیر قانونی طور پر سرحد پار سے لائی جانے والی گاڑیوں کی بھر مار، اندرون ملک بھی اسمگل کی جا رہی ہیں، دوسری جانب کسٹم کی نان پیڈ گاڑیوں کے خلاف بھر پور کارروائی میں سینکڑوں گاڑیاں پکڑی گئی،کوئٹہ کے شو رومز پر سرعام نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کاروبار ان دنوں بھی عروج پر ہے۔ اندورون صوبہ سرحد پار سے اسمگل ہو کر آنے والی گاڑیوں کا استعمال بھی جاری ہے۔

ہر ماڈل کی لش پش عام گاڑی 3 سے لیکر 15 لاکھ تک باآسانی مل جاتی ہے۔ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق یہ گاڑیاں افغانستان سے برراستہ قلعہ عبداللہ کے پہاڑی علاقوں سے لائی جاتی ہیں۔ غیر رجسٹرڈ گاڑیاں فروخت اور چلانے والوں کا کہنا ہے کہ ماضی کی طرح اب بھی غیر قانونی طور پر لائی جانے والی گاڑیوں کے لئے حکومت کو ایمنسٹی سیکم کا اعلان کرنا چاہیے۔اسمگل ہو کر آنے والی گاڑیوں کی روک تھام کے لئے کسٹم کا عملہ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ملکر مؤثر کارروائی میں مصروف ہے، کسٹم حکام کاکہنا ہے کہ وہ گاڑیوں سمیت ہر قسم کی اسمگلنگ روکنے کے لئے تمام ممکنہ اقدام اٹھا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نان کسٹم پیڈ گاڑیاں بڑی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر ملک کے دیگر حصوں تک گارنٹی کے ساتھ پہنچانے کا کاروبار بھی عروج پر ہے۔ اس حوالے سے کسٹم حکام نے کئی سمگل شدہ گاڑیاں ضبط بھی کی ہیں ، کسٹم حکام اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کے اس غیر قانونی دھندے کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔  کوئٹہ سمیت صوبے کے بیشتر علاقوں میں غیر قانونی طور پر سرحد پار سے لائی جانے والی گاڑیوں کی بھر مار، اندرون ملک بھی اسمگل کی جا رہی ہیں، دوسری جانب کسٹم کی نان پیڈ گاڑیوں کے خلاف بھر پور کارروائی میں سینکڑوں گاڑیاں پکڑی گئی،کوئٹہ کے شو رومز پر سرعام نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کاروبار ان دنوں بھی عروج پر ہے۔ اندورون صوبہ سرحد پار سے اسمگل ہو کر آنے والی گاڑیوں کا استعمال بھی جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…