جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستانی عوام کا سب سے زیادہ بھروسہ کس ادارے پر ہے؟ کراچی والے سب سے زیادہ کس بات پر پریشان ہیں اور پشاور والے کس بات سے؟ امریکی ادارے ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کے سروے میں حیرت انگیز انکشافات

datetime 12  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکی ادارے ورلڈ جسٹس پراجیکٹ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستانی عوام کا سول اداروں میں سب سے زیادہ بھروسہ عدلیہ پر ہے اور محکمہ پولیس سب سے زیادہ کرپٹ سمجھا جاتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی ادارے ورلڈ جسٹس پراجیکٹ نے رول آف لاء اِن پاکستان کے عنوان سے ایک سروے رپورٹ جاری کی ہے،

اس رپورٹ کے مطابق پاکستانی عدلیہ پر سب سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں اور اس کے مقابلے میں پولیس کے محکمہ کو کرپٹ ترین سمجھا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرم کی تحقیقات کرنے والوں کی نااہلی بھی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پولیس کا معاملہ ہو یا سرکار سے کوئی پرمٹ لینا ہو یہاں مٹھی گرم کرنا عام ہے، مزید یہ کہا گیا ہے کہ 2013ء سے پاکستان میں رشوت ستانی میں کمی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیاسی، مذہبی اور میڈیا کی آزادی کا تشخص 2016ء سے بہتر ہوا ہے۔ پاکستان میں جرم کرو اور سزا سے بچ جاؤ کا تاثر بھی بہت عام ہے۔ کسی بڑے سرکاری افسر کو غبن کے الزام میں سزا ہو جائے تو اس بات پر لوگوں کا یقین نہ ہونے کے برابر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پشاور والے نقب زنی سے بہت زیادہ پریشان ہیں تو کراچی والے ڈکیتی کی وارداتوں سے تنگ ہیں۔   امریکی ادارے ورلڈ جسٹس پراجیکٹ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستانی عوام کا سول اداروں میں سب سے زیادہ بھروسہ عدلیہ پر ہے اور محکمہ پولیس سب سے زیادہ کرپٹ سمجھا جاتا ہے۔ امریکی ادارے ورلڈ جسٹس پراجیکٹ نے رول آف لاء اِن پاکستان کے عنوان سے ایک سروے رپورٹ جاری کی ہے، اس رپورٹ کے مطابق پاکستانی عدلیہ پر سب سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں اور اس کے مقابلے میں پولیس کے محکمہ کو کرپٹ ترین سمجھا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…