منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سینٹ انتخابات: سندھ کی صورتحال انتہائی دلچسپ،کتنے سینیٹرز کا انتخاب کیا جائیگا

datetime 12  فروری‬‮  2018 |

کراچی(اے این این)سینیٹ انتخابات میں سندھ کی صورت حال انتہائی دلچسپ ہے جہاں 12 سینیٹرز کا انتخاب کیا جائے گا۔ان میں 7 جنرل نشستوں، 2 ٹیکنوکریٹ، 2 خواتین اور ایک سینیٹر اقلیتی نشست پر منتخب کیا جائے گا۔سندھ اسمبلی میں نشستوں کی کل تعداد 168 ہے جن میں سے ایوان میں اس وقت 167 اراکین موجود ہیں۔اسمبلی میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے اراکین کی تعداد 95 جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے مجموعی طور پر 72 ووٹ بنتے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکین کی تعداد 50، مسلم لیگ فنگشنل کے 9، مسلم لیگ ن کے 7، پاکستان تحریک انصاف کے 4، نیشنل پیپلز پارٹی کا ایک اور ایک آزاد رکن شامل ہے۔سندھ میں ایم کیو ایم پاکستان کے 10 اراکین مستعفی ہو کر دیگر جماعتوں میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں تاہم ان کے استعفے ابھی تک منظور نہیں ہوئے۔10 منحرف اراکین میں سے 8 پاک سر زمین پارٹی جبکہ ایک رکن نے پی پی پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ ایک رکن اسمبلی نے استعفی دینے کا اعلان تو کیا ہے مگر کسی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔اسی طرح تحریک انصاف کا ایک رکن بھی پی ایس پی میں شمولیت اختیار کر چکا ہے۔سندھ سے سینیٹ کی نشست کو جیتنے کے لیے درکار ووٹوں کی تعداد کو دیکھا جائے تو 7 جنرل نشستوں کے لیے ایک امیدوار کو تقریبا 24 ووٹ لینے ہوں گے۔ادھر خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی نشستوں کے لیے امیدواروں کو انفرادی طور پر 80 سے زائد ووٹ درکار ہوں گے۔ اقلیتی رکن کا انتخاب ایوان کے اکثریتی ووٹ پر ہوگا۔پیپلز پارٹی ایوان باآسانی 4 جنرل نشستوں کے ساتھ ایک خواتین اور ایک ٹیکنوکریٹ کی نشست بھی حاصل کرسکتی ہے جبکہ پوری اپوزیشن مل کر ووٹ کرے تو 3 جنرل نشستیں جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی ایک، ایک نشست حاصل کر سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اپوزیشن کا متحد ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ انتخابات میں توقع کی جا رہی ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے 9 منحرف اراکین کا ووٹ پاک سرزمین پارٹی کے انتخابی اتحادی کے ساتھ ہوگا۔

پی ایس پی کسی بھی جماعت کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال سکتی ہے اور وہ کم از کم ایک جنرل نشست پر بارگین کرنے کی پوزیشن میں ہے۔جوڑ توڑ کی سیاست میں اگر ایم کیو ایم پاکستان، تحریک انصاف اور منحرف اراکین کے بغیر دیگر جماعتوں سے اتحاد کرتی ہے تو اس صورت میں مسلم لیگ فنکشنل کو ایک جنرل نشست دے کر ایم کیو ایم 2 جنرل نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔اس کے علاوہ ایک خواتین یا ٹیکنوکریٹ کی نشست بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان موجودہ بحران سے نکل آئے ورنہ نتائج مختلف بھی ہوسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…