جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بچوں کے خلاف جنسی جرائم پر قابو پانے کے لیے ڈی این اے ایکٹ ، زینب قوم کی بیٹی تھی قاتل کی گرفتاری ،راناثناء اللہ نے ایک اوراعلان کردیا

datetime 13  جنوری‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی)صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثنا ء اللہ خاں نے کہا ہے کہ بچوں کے خلاف جنسی جرائم پر قابو پانے کے لیے ڈی این اے ایکٹ بنایا جائیگا،بچے ہمارے معاشرے کی اکائی اور ہمارا مستقبل ہیں ،حکومت ان کے تحفظ کے لیے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کریگی، زینب قوم کی بیٹی تھی اس کے قاتل کے لیے زمین تنگ کردینگے، سانحہ قصور کے نتیجہ میں آسودہ خاک ہونے والی معصوم بچی کی قربانی کو بے ثمر ہونے سے بچانے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادار کرنا ہو گا۔

وہ یہاں سول سیکرٹریٹ میں بچوں کے تحفظ اور ان کے خلاف جرائم کی بیخ کنی سے متعلق 20 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ اجلاس میں بچوں سے متعلق موجودہ قوانین اور مستقبل میں سانحہ قصور جیسے واقعات سے بچنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور و حوض کیا گیا۔ اس موقع پر ایسی سفارشات مرتب کرنے پر زور دیا گیا جن سے معاشرے میں بچوں کے خلاف جرائم بارے شعور اجاگر ، بچوں کے تعلیمی نصاب میں مثبت تبدیلی اور بچوں کے حوالے سے قانون سازی کو مزید موثر بنایا جاسکے۔ راناثناء اللہ خا ں نے کہا کہ بچوں کے تحفظ بارے دنیا میں رائج نظام کو اپنی معاشرتی اقدار سے ہم آہنگ بنا کر اس سے استفادہ کیا جائیگا۔ انھوں نے کہا کہ چائلڈ پر وٹیکشن بارے موجود ہ قوانین میں ترامیم کی جائیں گی اور ضرورت پڑنے پر نئے قوانین بھی بنائے جائیں گے۔ وزیر قانون نے کہا کہ ڈی این اے ایکٹ کے تحت مفصل ڈی این اے ڈیٹا مرتب کیا جائیگا تاکہ بچوں کے خلاف جرائم خصوصاً جنسی جرائم کی صورت میں ملزم کی فوراً نشاندہی ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈیٹا فرانزک سائنس ایجنسی میں محفوظ کیا جائیگا۔ انھوں نے کہا کہ فرانزک سائنس ایجنسی میں پہلے ہی لامحدود ڈیٹا اکٹھاکرنے کی گنجائش موجود ہے۔دوران اجلاس بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم خصوصاً جنسی جرائم و قتل کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر وزیر قانون رانا ثنا ء اللہ خاں نے دو کمیٹیاں بھی تشکیل دیں جنھیں ایک ہفتہ کے اندر حتمی سفارشات تیار کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ سفارشات وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کی جائیں گی جن کی منظوری کے بعدان پر فوراً عمل درآمد یقینی بنایا جائیگا۔قبل ازیں ، آئی جی پنجاب اور ایڈیشنل آئی جی ابو بکر خدا بخش نے اجلاس کو زینب واقعہ پر بریفنگ دی اور ملزم کی گرفتاری کے لیے اب تک کئے گئے اقدامات سے آگا ہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…