جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان ، آصف علی زرداری ، علامہ طاہر القادری اورآج مصطفیٰ کمال بھی شامل ہو گئے، نواز شریف کے لیے جے آئی ٹی کے بعد شہباز شریف کے لیے بھی جے آئی ٹی  انجام تک پہنچا کر ہی دم لیں گے

datetime 9  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کیلئے ججز پرمشتمل جے آئی ٹی بنانے کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی شہبازشریف اور رانا ثنا اللہ فوری مستعفی ہوں اور خود کو قانون کے سامنے پیش کریں‘ سانحہ ماڈل ٹاؤن آپریشن کا فیصلہ کرنے والے 125 بیورو کریٹس اور پولیس افسروں کو بھی عہدوں سے ہٹایا جائے‘ انشااللہ ہم انصاف لے کر رہیں گے اور اس کیلئے قانونی اورسیاسی جنگ لڑتے رہیں گے‘

اب کینیڈا جانے کا سوال ہی پیدا نہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کو انجام تک پہنچا کر ہی دم لیں گے ۔ وہ ہفتے کے روز لاہور میں پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ڈاکٹر طاہر القادری نے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی شہبازشریف اور رانا ثنا اللہ فوری مستعفی ہوں اور خود کو قانون کے سامنے پیش کریں سانحہ ماڈل ٹان آپریشن کا فیصلہ کرنے والے 125 بیورو کریٹس اور پولیس افسروں کو بھی عہدوں سے ہٹایا جائے ،انہوں نے کہا کہ انشااللہ ہم انصاف لے کر رہیں گے اور اس کیلئے قانونی اورسیاسی جنگ لڑتے رہیں گے ،اگر ضرورت پڑی تو کارکنوں کو کال دیں گے اور پرامن طور پر سانحہ ماڈل ٹان کے کرداروں کو انجام تک پہنچائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹاون میں ہلاکتوں کے ذمے دارشہبازشریف ،راناثنااللہ اورساتھی ہیں،ماڈل ٹاون میں خون کی ہولی کھیلی گئی،مثال ملکی تاریخ میں نہیں ملتی،انہوں نے کہا کہ ساڑھے 3 سال ہم قانونی جنگ لڑتے رہے،حکومت نے رپورٹ کو پبلک نہیں کرنے دی،ہم جسٹس باقر نجفی اور لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے جرات مندانہ فیصلے کئے جبکہ پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال کا کہناتھا کہ ہم ڈاکٹر طاہر القادری کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں،رانا ثنااللہ کا نام سانحہ ماڈل ٹان رپورٹ میں آ چکا ہے ،سانحہ ماڈل ٹاون کے ذمے دارخود کو قانون کے حوالے کردیں، انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاون کے ذمے داربے قصورہوئے توعدالت سے چھوٹ جائیں گے،مصطفی کمال کا کہناتھا کہ طاہرالقادری کی کوشش سے رپورٹ منظرعام پرآئی اورسچ سامنے آگیا۔ان کا کہناتھا کہ بلدیہ فیکٹری میں آگ کاواقعہ حادثہ تھا آج بھی یہی کہتاہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…