واشنگٹن / مشرقِ وسطیٰ (نیوز ڈیسک): ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے ایران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میزائل حملوں کے بعد مزید کشیدگی بڑھانے سے گریز کیا جائے اور امید ظاہر کی کہ اسرائیل بھی جوابی کارروائی سے اجتناب کرے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے صحافی بارک راوڈ سے گفتگو میں کہا کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے اور سفارتی راستہ اختیار کرتے ہوئے معاہدے کی جانب پیش رفت کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور مکمل طور پر الرٹ ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی حملوں پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے رابطہ کریں گے اور انہیں مزید فوجی کارروائی سے باز رہنے کا مشورہ دیں گے۔
امریکی صدر کے مطابق اگر اسرائیل نے دوبارہ حملہ کیا تو خطے میں جاری کشیدگی کا سلسلہ مزید طول پکڑ سکتا ہے، جو کئی دہائیوں سے مختلف شکلوں میں جاری ہے۔
دوسری جانب ایران نے بیروت پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں اسرائیلی اہداف پر میزائل فائر کیے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ناکام بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل پر کیا گیا حملہ ایک واضح انتباہ تھا۔ ان کے مطابق اگر اسرائیل نے دوبارہ جارحانہ کارروائی کی تو ایران کا ردعمل پہلے سے زیادہ شدید اور وسیع ہوگا۔
پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ رامات ڈیوڈ ایئر بیس کو بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ جنگ بندی کی منظوری اس شرط کے ساتھ دی گئی تھی کہ تمام محاذوں پر فائرنگ بند رہے، تاہم ایران کے بقول امریکا اور اسرائیل نے اس سلسلے میں اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان پر حملے جاری رہے تو خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی مفادات بھی نشانے پر آ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ایران نے بیروت پر حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد جوابی کارروائی کی پیشگی وارننگ دی تھی۔



















































