کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) رینجرز افسر ٹھاکر نے فاروق ستار کو ایک رات رینجرز ہیڈکواٹر رکھ کر ایم کیو ایم پاکستان کا سربراہ بنا دیا ، فاروق ستار کے ینجرز ہیڈکواٹر سے باہر آتے ہی اسٹیبلشمنٹ کے بن گئے ۔ ہفتہ کو پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے پریس کانفرنس
کرتے ہوئے بتایا کہ فاروق ستار نے سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید کو فون کرکے بتایا کہ اپنا بیان دینے جارہا ہوں، رینجرز نے ان کو وہاں سے گرفتار کرلیااور ساتھ لے گئے۔انہوں نے کہا کہ وہ ٹھاکر صاحب رینجرز کے افسر تھے، اور فاروق ستارکو رینجرز ہیڈکواٹر لے گئے ،ان کے خلاف غداری کے الزامات تھے۔رات بھر وہاں رہنے کے بعد فاروق ستار پارٹی کا سربراہ بن کے باہر نکلتے ہیں۔ اس کے بعد ہم پر اسٹیبلشمنٹ کا الزام لگا دیا گیا ۔ملزم گرفتار ہوئے اور ایم کیو ایم سربراہ بن کرنکلے،گورنر عشرت العباد نے آرمی چیف ،ڈی جی رینجرز، وزیراعظم سے بات کی، اور فاروق ستار کو چھڑوایا، انیس قائم خانی کو ایم کیو ایم جوائن کرنے کی ہدایت دی گئی،ہم نے کہا کہ ہم ایم کیو ایم میں نہیں جائیں گے،جو فاروق ستار کو چھڑ وا سکتے ہیں وہ انیس قائم خانی کو نہیں چھڑ وا سکتے؟وہ لو گ ہم پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھی ہونے کا الزام لگارہے ہیں، انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو کہہ کر ایم این ایز کو ہماری جماعت میں آنے سے پہلے روکا ہوا ہے،اب فاروق ستار سے سوال کریں کے،مصطفٰی کمال کے الزامات کا انکار کریں۔



















































